زیر التواء مقدمات کی قصوروار عدالتیں نہیں کوئی اور ہے،چیف جسٹس

112

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ز یر التواء مقدمات کی قصوروار عدالتیں نہیں کوئی اور ہے۔

سپریم کورٹ میں ضمانت منسوخی کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے زیر التواء مقدمات سے متعلق ریمارکس میں کہا کہ عدالتوں میں ججز کی پچیس فیصد آسامیاں خالی ہیں۔ اگر یہ آسامیاں پر کرلی جائیں تو تمام زیر التواء مقدمات ایک دو سال میں ختم ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ  پاکستان میں بائیس کروڑ آبادی کے لئے صرف تین ہزار ججز ہیں۔ عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 19لاکھ ہوگئی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں عدالتوں نے 31لاکھ مقدمات نمٹائے جن میں سے 26ہزار مقدمات صرف سپریم کورٹ نے نمٹائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی سپریم کورٹ نے گزشتہ ایک سال میں صرف 80سے 90مقدمات نمٹائے۔ ججز کی کمی کے باوجود ہمارے ججز زیر التواء مقدمات نمٹانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری کوششوں کے باوجود بھی لوگ عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ عدلیہ جتنی محنت کررہی ہے حالات جلد بہتر ہونگے۔ ہم دن رات کام کررہے ہیں پھر بھی عدالتوں کو زیر التواء مقدمات کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ زیر التواء مقدمات کی قصوروار عدالتیں نہیں کوئی اور ہے۔