افسر کی جنسی درندگی نے فضائیہ چھوڑ نے پر مجبور کیا، امریکی سینیٹر

296

امریکی سینیٹر نے فضائیہ کے اعلیٰ افسر پر عصمت دری کا الزام عائد کردیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی سینیٹر مارتھا مکسیلی نے انکشاف کیا ہے کہ جب وہ فضائیہ میں خدمات انجام دے رہی تھی تب ایک اعلیٰ افسر  نے ان کو اپنی جنسی درندگی کا نشانہ بنایا۔

سینیٹر نے یہ انکشاف فوجی عدالت میں جنسی زیادتی کے کیس کی سماعت کے دوران کیا۔

واضح رہے کہ سینیٹر مارتھا امریکافضائیہ میں خدمات انجام دے چکی ہیں۔ انہیں جنگی طیارے کی پہلی خاتون پائلٹ ہونے کا اعزازبھی حاصل ہے۔

مارتھا مکسیلی کی جماعت ‘دی ریپبلکن’ نے موقف اختیار کیا ہے کہ سینیٹر نے عصمت دری کے اس واقع کی اطلاع الجھن، شرم اورناقابل اعتماد نظام کی وجہ سےنہیں دی۔

واضح رہے کہ2017 میں امریکی فوج میں 6800 عصمت دری کے واقعات رپورٹ ہوئے ۔

دوسری جانب سینیٹ میں جنسی حملہ کے شکار افراد کے لیے قائم کمیٹی سے بھی خطاب کیا۔ جہاں ان کا کہنا تھا کہ”میں بھی فوجی عصمت دری کی متاثرہ ہوں لیکن ان کے برعکس ہوں جو اس سے بچ نکلے”۔

امریکی سینٹر نے کہا کہ “دیگر مرد اور عورتوں کی طرح میں نے بھی اس جنسی حملے کی شکایت درج نہیں کرائی کیونکہ مجھے اس نظام پر اعتماد نہیں “۔

مارتھا نے کہا کہ وہ اُس وقت شرمندہ اور گھبرائی ہوئی تھی۔افسر نے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئےانہیں زیادتی کا نشانہ بنایا۔

سینیٹر نے کہا کہ انہوں نے اس واقعے کے ایک سال بعد اعلیٰ حکام کے ساتھ معاملہ حل کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں تسلی بخش جواب نہیں ملا جس کی وجہ سے انہوں  نے18 سال فضائیہ میں خدمات انجام دینے کےبعد دل شکستہ ہوکر فضائیہ کو خیر باد کہہ دیا۔

واضح رہے کہ سینیٹر مارتھا نے 26 سال امریکی فضائیہ میں خدمات انجام دیں اور2010 میں ریٹائرڈ ہوئیں۔