پرویز مشرف کی عدم واپسی پر عدالت عظمیٰ نے حکومت سے جواب طلب کر لیا

185

اسلام آباد: سپریم کوٹ نے سابق صدر  پرویز مشرف کے خلاف سنگین  غداری کیس میں تاخیر پر حکومت سے  جواب مانگ لیا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری  کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت  کےدوران عدالت نے کہا کہ حکومت  نے اب تک ملزم  کو وطن واپس لانے کے لیے  کیا اقدامات کیے ہیں اس  حوالے سےعدالت کو آگاہ کیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا  کہ پہلے یہ تاثر دیا جا  رہا تھا کہ عدالت نے ملزم کا نام  ای سی ایل سے نکالا ہے۔  ملزم کانام ای سی ایل میں ڈالنا اور ملزم کو وطن واپس لانا حکومت کی ذمے داری ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ   عدالت ملزم کے ہاتھوں یارغمال بن گئی ہے ،اگر ملزم جان بوجھ کر وطن واپس نہ آئے تو عدالت بےبس ہوجاتی ہے،کوئی بھی ملزم چھوٹا  یہ بڑا نہیں ہوتا۔

سپریم کورٹ نے  کہا کہ نئی خصوصی عدالت تشکیل پاچکی ہے تو پھر پرویز مشرف کا ٹرائل کیوں رکا ہوا ہے جب کہ عدالت نے خصوصی عدالت کےرجسٹرار سے مقدمے میں تاخیر پر رپورٹ طلب کرلی اورحکم دیا کہ 15 دن میں رپورٹ جمع کروائیں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل نے پرویز مشرف کو ملک واپس لانے کے لیے کیے گئے اقدامات سے عدالت کو جلد آگاہ کرنے کا حکم دیا۔

 سپریم کورٹ نے وفاق اور مقدمے سے منسلک  تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔