حکومت سند ھ خواتین کو بااختیار بنانے کا عزم رکھتی ہے۔صوبائی وزیر ترقی نسواں سیدہ شہلا رضا

189

کرا چی (اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر ترقی نسواں سیدہ شہلا رضا نے کہا ہے کہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے عملی اقدامات کرتے ہوئے انہیں ہر سطح پر تعاون اور مدد فراہم کر رہی ہے اور انہیں سماجی معاشی بااختیار بنا نے کے علاوہ سیاسی طور پر بھی با اختیا ر بنانے کا عزم رکھتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یو این وومن اور ہوم نیٹ کی جانب سے عالمی یوم خواتین 8 مارچ کے حوالے سے خواتین میں ہیلتھ کارڈ اور ای شاپس فار ہوم بیسڈ ورکرز کی فراہمی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سیدہ شہلا رضا نے یو این وومین اور ہوم نیٹ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ ترقی نسواں سندھ نے بھی بھرپور تعاون فراہم کرتے ہوئے یہ انشورنس کارڈ اور ای شاپ کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا۔آئندہ بھی محکمہ ایک ای پورٹل بنانے جا رہا ہے جس میں خواتین کو ان رول کرکے انہیں مناسب سہولیات اور ای شاپ کے حوالے سے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ خواتین کو ان کے حقوق ،آ گا ہی، گھریلو تشدد کے خاتمے اور دیگر مسائل کو حل کرنے کے لیے قانون سازی کی ہے اور اس پر عملدرآمد کے لئے وومن پروٹیکشن سیل اور شکایتی سیل 1094 قائم کیا ہے جس سے خواتین کی دادرسی، قانونی مدد اور دیگر معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے۔

حکومت خواتین کے لئے کسان پروگرام اور دیگر فلاحی منصوبے اور پروگرام ترتیب دے رہی ہے۔ حکومت تمام خواتین کی تنظیموں کو مکمل تعاون و مدد فراہم کرنے کے لئے سنجیدہ ہے اورمشترکہ طور پر فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہے،

کل 8 مارچ کو سندھ اسمبلی سے پریس کلب تک خواتین مارچ بھی منعقد کرکے خواتین کو اپنے حقوق کے لئے آگاہی اور حاصل کرنے کیلئے مزید عملی اقدا ما ت کرنے کے لئے آگے لا رہے ہیں کہ وہ معاشرے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

تقریب سے صوبائی سیکریٹری ترقی نسواں سندھ عالیہ شا ہد، صوبائی سیکریٹری محنت عبدالرشید سولنگی، ڈائریکٹر تر قی نسواں انجم اقبا ل جما نی، عو ر ت فا ؤ نڈیشن مہناز رحمن، پا ئلر کے کرامت علی، سابق مشیر ڈاکٹر قیصر بنگالی، صوبائی کوآرڈینیٹر یو این وومن کپل دیو، ہو م نیٹ کی ام لیلیٰ تقریب میں نے بھی خطاب کیا۔

تقریب میں تقریبا 76 خواتین کو ہیلتھ انشورنس کارڈ اور ای شا پ انرولمنٹ کی گئی اور مزید کارڈ بھی تقسیم بھی کیے جائیں گے۔