شام میں بم دھماکا،7 وزرا پر یورپی پابندیاں

38
ادلب: سرحدی شہر الباب میں موٹر سائیکل میں نصب بم پھٹنے کے بعد جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں
ادلب: سرحدی شہر الباب میں موٹر سائیکل میں نصب بم پھٹنے کے بعد جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں

 

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 8شہری زخمی ہوگئے۔ تُرک ذرائع ابلاغ کے مطابق ادلب کی تحصیل الباب میں منگل کے روز موٹر سائیکل میں نصب دھماکاخیز مواد اڑایا گیا۔ تُرک ذرائع ابلاغ کے مطابق شامی مزاحمت کاروں نے اس دھماکے میں کرد ملیشیاؤں کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین نے شام کی بشارالاسد حکومت پر عائد پابندیوں کی فہرست میں 7 مزید افراد کا اضافہ کر دیا۔ یورپی کونسل کے مطابق اس فہرست کو وسعت دیتے ہوئے 7 مزید افراد کو شامل کیا گیا ہے کہ جس کے بعد مجموعی طور پر 72 کمپنیاں اور 270 افراد کے مالی اثاثے منجمد کیے جاچکے ہیں۔ ان پر اسد حکومت کی شہریوں کے خلاف جبر وتشدد کی کارروائیوں میں معاونت اور کردار پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ 28 رکن ممالک پر مشتمل یورپی کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بشار الاسد حکومت میں نومبر میں مقرر کیے گئے ان وزرا کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور وہ یورپ کا سفر نہیں کرسکیں گے۔ کونسل نے مزید کہا ہے کہ ان وزرا کے نام شامی نظام اور اس کے حامیوں کے خلاف تعزیری اقدام کا ہدف بننے والے افراد اور اداروں کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔ جن وزرا کو یورپی یونین کی ممنوع افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے وہ وزیر داخلہ میجر جنرل خالد الرحمون، وزیر سیاحت محمد رامی رضوان مارتینی، وزیر تعلیم عماد موفق الذہب، اعلیٰ تعلیم کے وزیر بسام بشیر ابراہیم، وزیر مکانات و تعمیرات سہیل محمد عبداللطیف، وزیر برائے مواصلات و ٹیکنالوجی ایاد محمد الخطیب اور وزیر صنعت محمد معین زین العابدین جذبہ شامل ہیں۔ یورپی یونین نے شام سے تعلق رکھنے والے 72 اداروں کے اثاثے بھی منجمد کیے ہیں۔