بھارتی معیشت کو جھٹکا امریکا کا جی ایس پی کا درجہ ختم کرنے کا فیصلہ

104

واشنگٹن(آئی این پی)بھارتی معیشت کو جھٹکا۔امریکا کا جی ایس پی کا درجہ ختم کرنے کا فیصلہ۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر منصفانہ طور پر امریکی کاروبار کو بند کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بھارت کے لیے ترجیحی تجارتی درجے کو ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کردیا۔بین الاقوامی امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی کانگریس کو لکھے گئے خط میں بھارت سے جنریلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز(جی ایس پی ) کا درجہ واپس لینے کے ارادے کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ یہ پروگرام ترقی پذیر ممالک کی امریکی منڈیوں تک آسان رسائی فراہم کرتا ہے۔جی ایس پی 121 ترقی پذیر ممالک کے لیے امریکا کی برآمدات پر کم ڈیوٹیز کا درجہ دیتا ہے جبکہ بھارت 2017 میں پروگرام کا سب سے بڑا بینیفشری تھا۔امریکی صدر نے اپنے خط میں لکھا کہ بھارتی حکومت نے امریکا کو اس بات کی یقین دہانی نہیں کروائی کہ وہ اسے بھارت کی منڈیوں میں برابر اور معقول رسائی فراہم کرے گا۔سی این این نے امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر سے جاری بیان کو نقل کرتے ہوئے بتایا کہ کانگریس کو لکھے گئے خط کی 60 روز کی میعاد شروع ہونے سے قبل ٹرمپ کارروائی کرسکتے ہیں۔۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد بھارت کو امریکا کی جانب سے ملنے والا تجارتی فائدہ ختم ہوجائے گا جب کہ بھارت 5.6 بلین ڈالرکی برآمدات سے محروم ہو جائے گا۔دوسری جانب بھارتی کے سیکریٹری تجارت انپ ودھاون کا کہنا تھا کہ جی ایس پی کا درجہ واپس لینے سے بھارت کی امریکا کو برآمدات پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سیکریٹری تجارت کا کہنا تھا کہ جی ایس پی کے تحت بھارت 5 ارب 60 کروڑ ڈالر مالیت کا سامان برآمد کرتا ہے اور اس پر سالانہ صرف 19 کروڑ ڈالر کا ڈیوٹی کا فائدہ ہوتا ہے۔