میئرکراچی ہوش کے ناخن لیں اور کراچی عوام کے دکھوں کا مداوا کریں ،کرم اللہ وقاصی

79

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)بلدیہ کراچی کونسل میں اپوزیشن لیڈر کرم اللہ وقاصی نے کہاہے بلدیہ کراچی میں افسران میئر کی چھتری تلے مزے اور منتخب یو سی چیئرمین فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے عوام کے سامنے شرمندہ ہو رہے ہیں،

میئر کراچی نے یونین کمیٹی کے چیئرمینوں سے ترقیاتی کاموں کے جو وعدے کیے تھے، اس پر کوئی عمل نہیں ہو ا اور عوام نے جس اعتماد کے ساتھ مقامی سطح پریو سی چیئرمین منتخب کئے تھے ان کا خواب چکنا چور ہو گیا ، 

ترقیاتی بجٹ میں اس سال06ارب رکھے گئے تھے وہ کہاں خرچ ہوئے کچھ پتہ نہیں ہے اور 07ارب روپے جو بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریونیو سے آتے تھے وہ کے ایم سی کے چہیتے افسران نے رشوت کی نذر کر دیئے ہیں، بلدیہ میں ریکوری 30فیصدبھی نہ ہوسکی ہے تو مزید ترقیاتی کام کہاں سے ہونگے اور جو ٹھیکے دیئے گئے ہیں انکا کوئی اتا پتا نہیں ہے بغیر سپرا رول ٹھیکے دیئے گئے ہیں،

چائنا کٹنگ کے ماہر میئر کراچی نے ٹھیکوں میں بھی چائنا کٹنگ کی اور کراچی کے عوام جنکے گراس روٹ کے مسائل حل ہونے تھے وہ جوں کے توں ہیں، 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیاری سے تعلق رکھنے والے یوسی چیئرمینوں کے وفد سے ملاقات میں کیا وفد نے انہیں بتایا کہ فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے انہیں عوامی مسائل حل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے،

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے منتخب نمائندوں کے ساتھ نارواسلوک کب تک رکھا جائے گا کرم اللہ وقاصی نے کہا کہ ، چہیتے افسرا ن جن کی ڈگریاں جعلی ہیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم برائے آڈٹ آف ٹرن پروموشن اور جالی بھرتیوں کی بھی مسلسل توہین کر رہے ہیں اور عدالتوں کے بذریعہ خط غلط معلوما ت دیکر ان جعلی ڈگری اور او،پی، ایس افسران جن میں محکمہ فائر بریگیڈ کے افسران شامل ہیں ریلیو کردیا گیاہے مگر وہ افسران تاحال اس عہدے پر تعینات ہیں اور عدالتوں کو گمراہ کیا جارہا ہے ،

جس آفیسر کے کیڈر کا محکمہ نہیں بنتا انکو وہاں کا محکمے کا سربراہ بنا کر غیر ٹیکنیکل اور ٹیکنیکل بناکربیٹھا دیا جاتا ہے ، بیشتر ملازمین گھر بیٹھے تنخواہیں اٹھارہے ہیں۔اور جو تنخواہوں کی مد سندھ گورنمنٹ سے جو فنڈز آتا ہے وہ بجائے تنخواہیں دینے کے ٹھیکے داروں کو کمیشن کے چکر میں بلوں کی مدمیں ادائیگی کردی جاتی ، جس کی وجہ سے ملازمین ذہنی اذیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

کراچی کے اسپتال جوبلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر نگرانی ہیں انکی حالت زار دیکھیں ، سرفراز رفیقی شہیداسپتال بند پڑا ہوا ہے جس میں 250ملازم تنخواہ اٹھا رہے ہیں اور وہ ڈاکٹرز دوسرے ممالک میں بغیر اطلاع دیئے وہاں کام کر رہے ہیں اور دونوں طرف سے تنخواہوں اور مراعات میں مزے اٹھا رہے ہیں۔

اسپنسر آئی اسپتال اور پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹر لیاری جہاں 12بجے کے بعد کوئی اسٹا ف موجود نہیں ہوتا جہاں تقریبا400افراد کا اسٹاف ہے ، گذری میٹرنٹی ہوم میں کنٹریکٹ پر ایم ایس رکھی گئی ہیں اور وہ پرائیوٹ طو اسپتال کام کررہا ہے وہاں 62افراد کا اسٹاف ہے اگر بیٹھے اسٹاف تنخواہیں اٹھائیں گے تو اسپتالوں کا کیا ہوگا۔ دوائیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ 

چارجڈ پارکنگ کی ریکوری نہ ہونے کے برابر ہے، بازاروں سے آنے والی آمدنی کا آتا پتا نہیں اور درجنوں غیر قانونی بازاروں کا کاروبار عروج پر ہے، میونسپل یوٹیلیٹی چارجز کی وصولی میں بڑی خرد برد ہے، لہذا پورا کا پورا بلدیہ عظمیٰ کراچی اپنی سمت آپ پر چل رہا ہے،
میئرکراچی ہوش کے ناخن لیں اور کراچی عوام کے دکھوں کا مداوا کریں ،

انکروچمنٹ کے یہ حال ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی عمارت کے ساتھ انکروچمنٹ کی گئی اور دکانیں گرائیں گئیں لیکن حال یہ ہے کہ انکی جگہ پتھارے لگاریئے گئے ہیں لیکن وہ میئر کراچی کو روز آتے جاتے نظر نہیں آتے،

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مسائل پر اجلاس بھی نہیں بلائے جاتے اور اگر اجلاس ہوتا ہے تو اجلاس میں مسائل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔