شمیم احمد کی لکھی کتاب ’’ذوالفقار علی بھٹو، عروج و زوال‘‘ کی تقر یب رونمائی ،

130

کراچی (اسٹاف رپورٹر) شمیم احمد کی لکھی کتاب ’’ذوالفقار علی بھٹو، عروج و زوال‘‘ کی تقریب رونمائی کراچی جمخانہ میں ہوئی۔ تقریب میں شہر کی معروف شخصیات اور مشہور ادیب شریک تھے، ان میں جاوید جبّار، ڈاکٹر جعفر احمد، سراج الدین عزیز،غازی صلاح الدین، ڈاکٹر نفیس قریشی اور اقبال صالح محمد شامل تھے۔

یہ کتاب ذوالفقار علی بھٹو کے عروج اور زوال کے پس پردہ محرکات کی تشخیص کرتی ہے اور رونمائی کی مذکورہ تقریب میں مقرروں کو اس بات کا موقع ملا کہ وہ بھٹو کی شخصیت کے علاوہ ان کے نفسیاتی عروج و زوال پر روشنی بھی ڈالیں۔

اس موقع پر سابق وزیرا ور سینٹر ،جاوید جبار نے کہا کہ ایک ایسی کتاب کی ضرورت تھی، جس میں مصنف تمام حقائق جمع کر ے اور ان کا تجزیہ کرے ۔ کتاب میں کوئی بھی جانبدارانہ روّیہ نہ ہو۔

بینکر سراج الدین عزیز نے کہا کہ بھٹو نے انتہائی شعور و دانش سے پاکستان کی اچھی طرح سے خدمت کی ہے، کیونکہ وہ ملک کے معاملے کو مؤثر طریقے سے بین الاقوامی فورم پر پیش کرنے میں کامیاب رہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو عوامی آراء کو اپنی خواہشات کے مطابق موڑ لینے کے ماہر تھے، جس کی ایک بہترین مثال 1974 ء کی اسلامی سربراہی کانفرنس تھی۔

ڈاکٹر جعفر احمد نے کہا کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے بعد، قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو سیاسی تجزیہ کاروں اور مؤرخوں کے درمیان بحث کی مرکزی شخصیت رہے اور ان پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اخباروں میں شائع ہونے والے بھٹو کے انٹرویوز نے ان کی شخصیت کے بہت سے پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھٹو پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن شمیم احمد نے ذوالفقار علی بھٹو کے عروج اور زوال کا ایک نفسیاتی تجزیہ فراہم کیا ہے۔

اس موقع پر خطا ب کرتے ہوئے ریٹائرڈ سرکاری ملازم، ایف بی آر کے سابق چیئر مین اور کتاب کے مصنف شمیم احمد نے کہا کہ اس بات کا جواب ڈھونڈنے اور اس کی وضاحت کی کوشش کی ہے کہ بھٹو جیسی شخصیت کا زوال کیسے ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بھٹو میں قابل قدرصفات تھیں جن کی بناء پر انہوں نے پاکستانی افواج کی حوصلہ افزائی میں کامیابی حاصل کی ، انہوں نے شملہ معاہدے پر دستخط کئے اور ہندوستان سے پاکستان کے جنگی قیدیوں کی واپسی کا انتظام کر ایا۔