بھارت کی جگ ہنسائی، بی جے پی اور کانگریس ایک دوسرے سے الجھ پڑے

94
ہندوستانی فضائیہ کے ناکام حملے سے پڑنے والے گڑھا

بھارتی فضائیہ کی جانب سے پاکستان میں فضائی حملے اور اس میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے دعوے کو پاکستانی افواج اور عالمی میڈیا تو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے اور اب بھارتی اپوزیشن کی جانب سے بھی مودی سرکار سے اس کاروائی کے ثبوت مانگے جا رہے ہیں۔

بھارتی جنتا پارٹی کے صدر امیت شاہ کی جانب سے اتوار کے روز یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملے میں ڈھائی سو سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے البتہ بھارتی فضائیہ کی جانب سے اس کاروائی کے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔ بھارتی فضائیہ کے سربراہ بھی پریس کانفرنس کے دوران حملے سے متعلق میڈیا کو تسلی بحش جواب دینے میں ناکام رہے ہیں جس کے بھارتی اپوزیشن حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔

کانگریس لیڈر اور سابق وزیر خزانہ چدمبرم نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی فضائیہ کے وائس ائیر مارشل نے ہلاکتوں پر کسی بھی قسم کا ردعمل دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر یہ تین سو ہلاکتوں کی تعداد کس نے جاری کی۔ میں ایک شہری ہونے کی حیثیت سے حکومت کے بیانیے پر اعتبار کرنے کو تیار ہوں لیکن اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھی ہماری بات پر یقین کرے تو حکومت کو اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے عملی کوششیں کرنی ہوں گی۔

چدمبرم کے اس کڑوے سچ پر بی جے پی رہنما پیوش گویل نے انہیں بھارت کے لیے شرمنگی کا باعث قرار دے دیا۔ گویل نے کہا کہ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ کانگریئس بھارتی فوج کے بجائے پاکستان کی بات پر یقین کرتی ہے۔

سینئر کانگریس لیڈر کپل سبل نے بھی مودی سرکار سے عالمی میڈیا کو حملے کے ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی سے رافیل جیٹ فائیٹر کی غیر موجودگی کی وجہ سے فضائیہ کی کمزوری کے اعتراف پر بھی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

حرا زرین شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کی فارغ التحصیل طالبہ ہیں اور عملی صحافت میں قدم رکھ رہی ہیں۔ شاعری اور ادب سے لگاؤ رکھتی ہیں۔