اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت بند کی جائے، برطانوی لیبرپارٹی

127

برطانیہ کی لیبرپارٹی کے سربراہ جیرمی کوربین نے فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست فلسطینیوں کے قتل عام میں ملوث ہے اور اس قتل عام کے بعد صہیونی ریاست کے خلاف عالمی سطح پر تحقیقات کی جانی چاہئیں۔

برطانوی لیبرپارٹی کے سربراہ نے اپنی ٹیویٹ میں کہا کہ “صہیونی ریاست فلسطینیوں کے وحشیانہ قتل عام میں ملوث ہے۔ مقتولین میں بچے، صحافی اور امدادی رضار کار بھی شامل ہیں۔ غزہ کی پٹی میں اسرائیل نہتے مظاہرین کے خلاف وحشیانہ جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے”۔

کوربین کا مزید کہنا تھا کہ “برطانیہ کی حکومت فلسطینیوں کے قتل کے اسرائیلی جرائم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ صہیونی ریاست کو ہر طرح کے اسلحہ اور جنگی سازو سامان کی فراہمی بند کرے۔”۔

جیرمی کوربین کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے غزہ کی پٹی میں مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی۔

کمیشن کے مطابق اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ 2018ء کے دوران غزہ میں مظاہروں کے دوران اسرائیل نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ اسرائیلی نشانہ بازوں نے جانتے بوجھتے ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا جن کی شناخت بچوں، طبی ارکان یا صحافیوں کے طور پر واضح تھی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں 270 فلسطینیوں کو شہید کیا ہے۔ پچھلے سال 30 مارچ سے 31 اگست تک 189 فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔ شہید ہونےوالوں میں بچے اور خواتین سمیت تمام عام شہری شامل ہیں۔