محتاط وزیر اعلیٰ اور مسائل کے انبار

118

 

جلال نُورزئی

بلوچستان کے وزیراعلیٰ بہت محتاط شخص ہیں۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ اپنی حکومت میں صوبے کی بہتری کے لیے بڑے پیمانے پر کام کریں۔ یقیناًوہ اس جانب بڑھنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال بھی کررہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وقت بھی دے رکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی انقلابی قدم اور تبدیلی تنہاء کسی شخص کے بس و اختیار میں نہیں ہے۔ اس مقصد کی خاطر ہمہ پہلو تعاون اور ہمرکابی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ جام کمال اپنی حکومت اور اتحادیوں سے مطمئن ہوں۔ مگر ماضی کا مشاہدہ سامنے ہے، اور اب بھی اس ضمن میں اطمینان نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ حکومت کو حکومت والوں ہی سے بہت سارے مسائل کا سامنا ہے۔ اغلب ہے کہ ان رویوں کی وجہ سے جام کمال بھی مطلوب ہدف حاصل نہ کرپائیں۔ بہرحال ایسا بھی نہیں کہ حکومتیں مطلق ناکام ہوتی ہیں بلکہ ہر حکومت کی خامیوں کے ساتھ ان کے مثبت و قابل ستائش کام و اقدامات بھی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ جام کمال محتاط انداز میں آہستگی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی بھی کام اور منصوبہ عجلت و تیزی کے بجائے کافی سوچ و بچار کے بعد نہایت محتاط انداز میں آگے بڑھایا جائے۔ تاکہ اُن اُمور و منصوبوں کے ساتھ انصاف ہو اور ۔ اس ذیل میں ان کے پیش نظر بد عنوانی کا عنصر اولیت رکھتا ہے، تاکہ صوبے کی ترقی اور عوام کے حقوق اس وباء سے محفوظ کیے جائیں۔ ماضی میں یقیناًاس صوبے کے ساتھ بے انتہا ناانصافیاں ہوئی ہیں۔ ذات و خاندانوں کی آسائش و خوشی کی خاطر صوبے اور عوام کے مفاد پر ڈاکا ڈالا گیا ہے، بدعنوانی اور غبن کے ریکارڈ قائم کیے گئے ہیں۔
صحافی دوست خلیل احمد نے 23 فروری کو اپنی نیوز اسٹوری میں لکھا ہے کہ پچھلے دس سال میں بد نصیب بلوچستان میں بدعنوانی اس دیدہ دلیری سے کی گئی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پچھلے دس سال میں بلوچستان میں تر قیاتی منصوبوں میں کھربوں روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔ 400 سے زائد ترقیاتی منصوبے محض کاغذوں میں مکمل ہیں، زمین پر ان منصوبوں کا وجود صرف 10سے 25 فی صد تک ہے۔ غیر معیاری میٹریل استعمال ہوا، عمارتوں کی چھتیں، دروازے، باتھ روم، الیکٹرک اور سینیٹری ورکس سمیت کام باقی ہیں اور ٹھیکیداروں کو سو فی صد ادائیگیاں ہوچکی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ دس سال کے دوران بلوچستان میں دو سو سے زائد ڈیمز کے لیے وفاق نے اربوں روپے فراہم کیے۔ لیکن ان میں متعدد صرف کاغذوں تک محدود ہیں، زمین پر ان کا کوئی وجود نہیں۔ اکثر ڈیمز کے لیے یہ بہانہ تراشا گیا کہ بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب میں یہ ڈیمز بہہ گئے ہیں۔ اس بہتی گنگا میں سابق دور کے وزراء، ارکان اسمبلی، بیوروکریسی اور مخصوص ٹھیکیدار مافیا نے خوب ہاتھ دھوئے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ تمام تر تحقیقات کا دائرہ کار ماضی کے منتخب نمائندوں تک محدود ہوجاتا ہے جن میں سے اکثر آج بھی حکومت کا حصہ ہیں اور انہی کے دباؤ کی وجہ سے وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کی سرگرمیاں محدود کردی گئی ہیں۔ خبر میں کہا گیا ہے کہ اندرون بلوچستان تو بہت ہی برا حال ہے لیکن صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بھی وہ کچھ کیا گیا ہے جسے دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔
کوئٹہ کے انتہائی اہم علاقے میں ایک عمارت کی تعمیر کی منظوری دی گئی اور اس کے لیے پانچ سال تک متواتر فنڈز بھی فراہم کیے جاتے رہے لیکن زمین پر اس عمارت کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے فوٹو شاپ پروگرام سے اس عمارت کی تصاویر بنائی جاتی رہیں اور اعلیٰ حکام کو انہی تصاویر پر بریفنگ دیکر مطمئن کیا جاتا رہا ہے۔ اگر سی ایم آئی ٹی کی رپورٹوں پر کارروائی کی جاتی ہے تو بلوچستان میں سیاسی اور انتظامی بحران پیدا ہوجائے گا اب دیکھنا ہوگاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اس طاقتور کرپٹ مافیا کیخلاف کارروائی کرنے کا کتنا اختیار رکھتے ہیں یا پھر ماضی کی طرح کرپشن کی یہ کہانیاں بھی فائلوں میں بند ہوکر ردی کی ٹوکریوں کی نذر ہوجائیں گی‘‘۔
یہ تو محض ایک ادنیٰ نمونا ہے، اگر بد عنوانی اور ظلم بازاری پر کام کیا جائے تو کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ کوئٹہ صوبے کا دارالحکومت ہے اس کی بہتری اور ترقی کے نام پر ماضی میں کئی ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے۔ بھاری رقوم اس مقصد کی خاطر مختص ہوئیں، مگر نتیجہ گویا صفر ہے۔ بلکہ شہر کی حالت روز بروز بگڑتی جارہی ہے۔ شہر کے اندر بہتری کا کوئی نشان و پیش رفت ثابت نہیں کیا جاسکتی۔ ہر چیز ہر مقام کی درگت بنی ہوئی ہے۔ کوئی شاہراہ و علاقہ صاف دکھائی نہیں دیتا۔ نالیاں تو گند و غلاضت سے اٹی پڑی ہیں۔ کئی شاہراہوں پر نالیاں سنگین حادثات کا باعث بن رہی ہیں۔ مین ہول کھلے پڑے ہیں۔ بارانی پانی کے اخراج کے لیے بنائی گئی زیر زمین نالیوں کے سیل جگہ جگہ ٹوٹے ہوئے ہیں۔ بڑی گاڑیاں آئے روز ان میں گرجاتی ہیں۔ اس منصوبوں کی تکمیل دو ارب اسی کروڑ کے سرمائے سے ہوئی، جو مطلق ناکام و ناکارہ منصوبہ ہے۔ غرض کس کس پہلو کی نشاندہی کی جائے۔ کوئی کل سیدھی نہیں ہے۔ صفائی برائے نام ہوتی ہے سڑکوں پر کچرا پڑا رہتا ہے۔ اس ضمن میں شہری و تاجر بھی ذمے داریاں پوری نہیں کررہے۔ رہائشی علاقے دھڑا دھڑ کمرشل میں تبدیل ہورہے ہیں، کوئی ضابطہ ہے نہ کوئی روکنے والا۔ آبادیاں بغیر ٹاون پلانگ کے تیزی سے بن رہی ہیں۔ یہ آبادیاں مزید شہری مسائل کا باعث بن رہی ہیں۔ ان آبادیوں میں پرائمری اسکول تک نہیں۔ اب تو نکاسوں کا رواج بھی شروع ہوا ہے عمارت تعمیر کرتے وقت چار سے پانچ فٹ نکاسے نکالے جاتے ہیں، جن سے شاہراہیں تنگ ہوچکی ہیں۔شہر کے اندر غیر قانونی گاڑیوں، رکشوں کی بھر مار ہے۔ موٹرسائیکلیں کسی حد میں نہیں رہیں ہر روز رکشوں اور موٹرسائیکلوں سے بھرے ٹرالر شہر میں داخل ہوتے ہیں پوچھنے والا کوئی نہیں کہ آیا یہ رکشے اور موٹرسائیکلیں کس کی اجازت اور کس قانون کے تحت شہر کے اندر لائے جاتے ہیں۔
شہر کی تباہی و بربادی کی پوری تفصیل ہے جس کا احاطہ اس کالم میں کرنا ممکن نہیں۔ ایف سی کی تعیناتی کا بوجھ ویسے بھی صوبائی حکومت برداشت کررہی ہے کیوں نہ ایف سی کے ذمے چند مزید کام بھی لگائے جائیں سردست ان سے غیر قانونی رکشوں، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو تحویل میں لینے کا کام لیا جاسکتا ہے۔ چند دوسرے کام بھی لیے جاسکتے ہیں جو حکومت، ضلعی انتظامیہ پولیس اور دوسرے محکمے و ادارے کرنے میں ناکام ہیں۔ جام کمال نے 13 فروری کو کوئٹہ پیکیج کے تحت منصوبوں کے لیے ایک ارب روپے کا اجراء کیا ہے ان میں سڑکوں کی کشادگی کے لیے اراضی کی خریداری اور بجلی کے کھمبوں کی منتقلی کا کام کیا جائے گا۔ کوئی بھی منصوبہ ہو وزیراعلیٰ اگر خود پر نگاہ رکھے تو اسے خرابیوں اور بد عنوانی کے ناسور سے بچایا جاسکتا ہے۔ اور اس ضمن میں کوتاہی و بد عنوانی پر گرفت بھی بروقت ہونی چاہیے۔ اہل اور دیانتدار آفیسران سے کام لیا جائے۔ بد عنوان لوگوں کو شہر اور شہریوں کے مفاد کے منصوبوں کے قریب بھی نہ بھٹکنے دیا جائے۔ 13 فروری کو اعلامیہ جاری ہوا کہ حکومت نے ایسے افسران کے خلاف بیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے جو نیب ریفرنسز میں سزا یافتہ ہیں یا اس وقت ضمانت پر رہا ہیں یا جنہوں نے نیب سے پلی بار گین کر رکھی ہے کے خلاف انضباطی ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ اقدام خوش آئند ہے ایسے کئی افسران اہم ذمے داریوں پر موجود ہیں جو نیب کی گرفت میں آئے ہیں یا جن پر احتساب عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں۔ الغرض کوئٹہ پیکیج کے تحت رقم شہر پر نہیں لگی ہے، محض لیپا پوتی کی گئی ہے۔ چناں چہ کوئٹہ ہمہ پہلو توجہ کا متقاضی ہے، اس شہر کو مزید بر بادی سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ جام کمال ایک مربوط و سخت راہ عمل و حکمت عملی وضع کریں۔