جون میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار شروع ہوجائے گی ،تھرپور ے ملک کو جگمگائے گا،مراد علی شاہ 

37
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ مقامی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ مقامی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی اب ترقی کی راہوں پر گامزن ہے،ملک میں توانائی بحران کا حل صرف سندھ کے پاس ہے،جون میں کوئلے سے بجلی پیدا کریں گے، تھر اب پورے ملک کو جگمگانے جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کو بیچ لگژری ہوٹل میں منعقدہ کراچی لٹریچر فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں سندھ کی معیشت کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات میں کیا۔ اس پینل میں وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ ، ڈاکٹر عشرت حسین سابق گورنر اسٹیٹ بینک اور ڈاکٹر شمشاد شریک ہوئیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پاکستان کا تاریخی پس منظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی سندھ میں بڑے پیمانے پر ہجرت ہوئی، سندھ کی معیشت جو اْس وقت بہتر تھی مسائل کا شکار ہوئی۔ پیپلزپارٹی
کے تحت سندھ کی معیشت دوبارہ بہتر ہوئی۔پھر مارشل لا لگاجس کی وجہ سے معاشی ترقی کا پہیہ جام ہوا۔شہید بھٹو کی حکومت کے تحت پورے پاکستان کی معیشت کی دوبارہ تعمیر ہوئی۔ سندھ کے نوجوانوں کو آگے لانے کے لیے کوٹہ سسٹم متعارف کرایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم افغان جنگ کے مسائل اور ضیا کے پیدا کیے گئے مسائل ٹھیک کرتے رہے ہیں۔ کراچی کی معیشت ، سماجی زندگی اور تعلیم سب امن و امان کی نذر ہو گیا۔امن ٹارگٹڈ آپریشن کی ذریعے بحال کیا گیا۔کراچی کی تعمیر نو پرایک ٹریلین روپے شہر کے انفرااسٹرکچرکی بحالی ، پانی ، سیوریج ، روڈز کی تعمیر پر خرچ کیے گئے۔اب کراچی ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔ملک میں توانائی بحران کا حل صرف سندھ کے پاس موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے کول کے ذخائر ، ونڈ اور سولر انرجی کوریڈور کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔کول مائننگ کا کام بہتر اور زبردست طریقے سے کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ ہم جون میں کوئلے سے بجلی پیدا کریں گے۔ہم تھر کے انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ پر ایک بلین ڈالر خرچ کر چکے ہیں۔ تھر اب پورے ملک کو جگمگانے جارہا ہے۔ تھر میں سائنٹفک طریقوں سے سیلین واٹر پر زراعت متعارف کرائی ہے۔ تھر کول فیلڈ کے متاثر لوگوں کی بحالی کے لیے انہیں گھر مالکانہ حقوق کے ساتھ دیے ہیں اور معاوضہ بھی دیا ہے اور پروجیکٹ میں حصہ بھی دیا ہے۔ تھر کی دیہی زندگی میں روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ تعلیمی سیکٹر میں سندھ حکومت نے انگلش میڈیم اسکولز ، یونیورسٹیز بنائی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سول سروس کی جو احتساب کے نام پر حالت کی گئی ہے وہ بڑی بھیانک ہے۔ کوئی آفیسر اب فیصلے لینے کے لیے تیار نہیں۔ ایک آفیسر جو اب ریٹارئرڈ ہوئے ان کا اتنا میڈیا ٹرائل ہوا کہ ان کا مذاق اڑنے لگا۔ کیریئر کی کوئی سیکورٹی نہیں ہے۔ ایک آفیسر 3 مہینے میں کاشت کاروں کو پانی مہیا کرنے میں ناکام رہا، میں نے ہٹایا تو کورٹ نے واپس بحال کردیا۔ ہمیں آفیسر ز کو نہ صرف پروٹیکشن بلکہ ان کی ہمت افزائی اور کام کرنے کے لیے اچھے ماحول میں مواقع فراہم ہوں گے۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو میں نیب کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ہم تعاون نہیں کر رہے ،اس معاملے کو عدالت عظمیٰنے بھی اٹھایا تو ہم نے عدالت عظمیٰ میں اپنا جواب دائر کرایا جس کے بعد چیف جسٹس صاحب اس معاملے کو آگے نہیں لے گئے۔ قانون کے مطابق ہم پورا تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اسمبلی کی کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے اسپیکر سندھ اسمبلی کا ہونا لازمی ہے۔ پی ایس ایل کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ مجھے اس حوالے سے ہر شخص کا تعاون درکار ہے، اسے کامیاب بنانے کے لیے ہم اپنی پوری تیاری کریں گے۔ انہو ں نے کہا کہ میں نے 2 سال قبل کراچی کے لیے صرف ایک میچ مانگا تھا مگر اب تو سارے میچ کراچی میں ہونے جارہے ہیں جو ایک چیلنج ہے اور ہم ان شاء اللہ یہ چیلنج قبول کریں گے۔