بھاؤ تاؤ

103

 

نیر کاشف
آپا گاڑی ذرا ادھر سیدھے ہاتھ کی طرف تو لیں، میری بات سن کر آپا نے اپنی فراٹے بھرتی ہوئی زبان اور گاڑی دونوں کو ہی بریک لگائے اور میری جانب استفہامیہ انداز میں دیکھا۔ دیکھیں نا ادھر ہے تو ایک سبزی والا،آپ لسٹ دیں میں اتر کر لے لیتی ہوں، میں نے اچانک گاڑی رکوانے کا مقصد بتایا، ارے رہنے دو خرید لی تم نے سبزی اور کر لیا تم نے بھاؤ تاؤ، انہوں نے فہرست میرے ہاتھ میں پکڑاتے پکڑاتے ایک دم ہی اپنا ارادہ تبدیل کیا، مٹھی زور سے بند کی اور گاڑی سے اتر گئیں، میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ پھیل گئی، وہ ہمیشہ ہی مجھ سے اس بات پر ناراض ہوتی تھیں کہ میں سبزی ،پھل گوشت سے لے کر ہر قسم کی خریداری بغیر بھاؤ تاؤ کے کر لیتی ہوں، گو کہ ان کے اس بیان سے میں اتنی زیادہ متفق تو نہیں تھی، لیکن میں جواب میں مسکرانے پر ہی اکتفا کرتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔ارے بھائی کیا ہو گیا ہے، آگ لگ گئی قیمتوں کو؟ آپا اپنے مخصوص انداز میں سبزی والے سے مخاطب تھیں،ارے رہنے دو سب خبر ہے ہمیں ،ہمارے علاقے میں تو اس سے دس روپے کم میں مل رہی ہے پیاز، آپا کی تیز آوازصاف سنائی دے رہی تھی جب کہ سبزی والے کا جو بھی جواب تھا مجھے تو اس کا منمنانا ہی محسوس ہو رہا تھا،شدید گرمی میں کم از کم دس منٹ کی بحث کے بعد جب وہ گاڑی میں لوٹیں تو ہاتھ میں سبزی کا تھیلا ،ہونٹوں پہ فاتحانہ مُسکراہٹ اور پیشانی پہ پسینے کے بے شمار قطرے تھے۔،،اچھا سنو وہاں سے ٹماٹر تو ملے نہیں ایسا کرتے ہیں اس سپر مارٹ سے لے لیتے ہیں۔،،انہوں نے اب گاڑی ایک سپر مارٹ کی پارکنگ میں روک دی تھی،،اندر آؤ نا، کیا گاڑی میں ہی بیٹھے رہنے کا ارادہ ہے،آپا کی تیز آواز پر میں بھی تیزی سے باہر نکل آئی اور اندر کی طرف قدم بڑھا دیے۔
اندر داخل ہوتے ہی ایک خوامخواہ کی مرعوبیت نے میرے ساتھ ساتھ گویا آپا کی شخصیت کا بھی احاطہ کر لیا تھا،ہم دونوں نے سبزی کے لیے مختص حصے کی جانب قدم بڑھا دیے، آپا ٹماٹر اتنے مہنگے؟؟؟میری آنکھیں حیرت سے پھیل سی گئیں ،، اس سے تو کافی سستے ٹماٹر کل ہی امی نے محلے سے خریدے تھے ،،
افوہ تم کہاں سستے مہنگے کے چکر میں پڑ گئی ہو، چلو باسکٹ میں ڈالو ٹماٹر ، آپا نے مجھ سے کہتے کہتے خود ہی باسکٹ میں تھیلی ڈالی اور کاؤنٹر کی طرف بڑھ گئیں،،،ظاہر سی بات ہے بھاؤ تاؤ کرنے کے لیے نہیں بلکہ چپ چاپ ادائیگی کرنے کے لیے۔