بال

89

سیڑھیوں کی طرف بڑھو،جلدی کرو۔۔وہ لوگ اندر داخل ہورہے ہیں۔۔۔! پورے ہال میں بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔۔ان لوگوں میں میرے جاننے والے بھی موجود تھے اور غیر بھی۔۔۔ہمیں ہال سے اوپر سیڑھیاں چڑھ کر خفیہ کمرے کی طرف بھیجا جارہا تھا۔۔۔ سیڑھیاں چڑھے تو دیکھا کہ سامنے لکڑی کا پل ہے جس کے ذریعے سب سامنے کمرے تک جارہے تھے۔۔پل انتہائی خوفناک تھا۔۔قدم بڑھایا مگر ڈر کر پیچھے ہوگئی۔۔۔ میں پیچھے بھی نہ جا سکتی تھی۔۔کیونکہ میرے پیچھے اور لوگ جمع غفیر کی صورت بڑھ رہے تھے اور اگر کسی طرح ان کو چیرتی ہوئی چلی جاتی تو نیچے مجھے پکڑ لیا جاتا۔۔واحد حل میرے پاس آگے بڑھنا تھا۔۔۔قدم بڑھائو ایک دوست کو دیکھا تو ڈھارس ہوئی۔۔مدد کے لیے پکارا تو وہ مجھے یوں ان دیکھا کر گئی جیسے مجھے جانتی ہی نہ ہو۔۔۔ وہاں میرا ہاتھ پکڑ کر کوئی آگے چھوڑنے والا نہ تھا۔۔اپنے آپ کو بے بس پاکر ہمت کی مگر پہلے ہی قدم میں میرا جوتا پل سے نیچے اندھیرے میں جاگرا۔۔ایک جوتا پہن کر آگے بڑھنا ناممکن تھا دیوار پکڑ کر اپنا من پسند جوتے کا دوسرا جوڑا بھی نیچے پھینکا اور دیوار کے سہارے راستہ پار کرنے لگی۔۔۔ میں راستہ پار کرتے ہوئے صرف اللہ کو پکار رہی تھی۔۔کہ خدایا آج مجھے بچالیں، میرا سہارا بن جائیں۔۔۔میری غیبی مدد کردیں۔۔یہ دعائیں میرے لبوں پر جاری تھیں کہ میں نے آنکھ کھولی تو سامنے اپنے کمرے کی چھت کو پایا۔۔تب معلوم ہوا یہ خواب تھا۔ خدا کا شکر ادا کیا کہ یہ خواب تھا۔۔مگر خواب اتنا اعصاب شکن تھا کہ میں اب تک اسی کے سحر میں تھی۔۔ابھی بھی خواب کی جھلکیاں میرے ذہن میں گردش کر رہی تھیں۔۔کہ اگر یہ خواب،خواب نہ ہوتا۔۔میری آنکھیں جورات بند ہوئیں تھیں وہ دوبارہ اس کمرے میں نہ کھلتیں۔۔میں انھیں سوچوں میں گم تھی کا امی کی آواز آئی۔۔”اٹھ جاؤ، آج ماسی نہیں آئی ہے۔”۔۔ میں نے کہا۔۔ ’’جی آئی!‘‘۔۔اور منہ ہاتھ دھونے واش روم کی طرف چل دی۔۔
ناشتے کے برتن دھو کر جھاڑو ہاتھ میں تھامی،جھاڑو دیتے ہو ئے مجھے بال ملا جو شاید میرا ہی تھا۔۔ اس بال کو دیکھ کر مجھے فورا وہ پل یاد آگیا جو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔۔میں سوچنے لگی کہ وہ پل اگر پل صراط ہوتا۔۔یہ سوچ کر ہی میرے جسم میں ایک لہر سی آگئی اور میری آنکھ سے ننھا قطرہ نکلا۔۔کہ کیا میرے اعمال،میری ذاد راہ،میرا سامان آخرت اس لائق ہے کہ میں اس پل صراط سے گزر سکوں جس پر سے ہر ایک نیک و بد کو گزرنا ہے۔۔۔اس راستے سے گزرسکوں جو بال سے زیادہ باریک ہے۔۔اس پل صراط سے گزرسکوں جو تلوار سے زیادہ تیز ہوگا۔۔جسے جہنم کے اوپر بچھا دیا جائے گا۔وہ پل صراط جسے سلامتی سے پار کرنے کے لیے انبیاء نے بھی دعائیں مانگیں۔۔کیا میرے پاس بھی اللہ کے نیک بندوں کی طرح ،صالح اور مومن لوگوں کی طرح وہ روشنی،وہ نور ہوگا جو مجھے اس راستے سے گزرنے میں مددگار ہو۔۔؟
میں تو آج اپنے ہی سوالوں کے جواب میں خالی ہاتھ ہوں پھر اس روز،اس رب العالمین کو کیا جواب دوں گی؟ کیا حساب دوں گی جب میزان بیٹھا دیا جائے گا؟ کہیں مجھے بھی منافقوں کی طرح دل میں چھپے کفر کے عوض جہنم کی گہری اور ہولناک وادی میں پھینک نہ دیا جائے یہ خیال آتے ہی میرے لبوں سے صرف یہ دعا نکلی۔
’’ اللھم اجرنی من انار‘‘