مغرب میں مسلم اقلیتیں: مسائل اور ممکنہ لائحہ عمل

142

 

ہلال احمد تانترے
(مقبوضہ کشمیر)

۔2016ء کے سروے کے مطابق یورپ کی کل آبادی کا قریباً 5 فی صد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یورپ کی کل آبادی 74 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ اس کے حساب سے مسلمانوں کی کل تعداد زائد اَز ۶؍ کروڑ بنتی ہے۔ ان ممالک میں مسلمان سب سے زیادہ فرانس میں بحیثیت اقلیت رہ رہے ہیں، جن کی کل آبادی ملک کی آبادی کا تقریباً 9 فی صد ہے، جو تقریباً 5 ملین کے قریب بنتا ہے۔ حالیہ برسوں میں جب کہ مشرق وسطیٰ میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی اکثریت کا خروج ہو رہا ہے، اور آبادی کا یہ حصہ یورپ کے ملکوں میں پناہ لینے کی غرض سے داخل ہو رہا ہے، اس سے مسلمانوں کے لیے یورپ میں حالات کچھ زیادہ ہی ناموافق ہو گئے ہیں۔ اس چیز نے، بقول اُ ن کے یورپ کو حفاظتی و آبادیاتی اقدامات کے حوالے سے ایک بڑے تذبذب میں ڈال دیا ہے۔ لیکن اس کے برعکس ایک تھنک ٹینک Pew Research Centre کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اگر بالفرض پناہ گزینوں کی آمد کو صفر فی صدی تک روک بھی لیا جائے، تب بھی مسلمانوں کی مجموعی آبادی یورپ میں بڑھتی ہی چلی جائے گی، جو موجودہ آنکڑوں کو چیر کر2050ء میں 8فی صد تک جا پہنچے گی۔ اُدھر سے جو تخمینہ لگایا جارہا ہے، اس کے مطابق یورپ کی مجموعی آبادی گھٹ رہی ہے۔ اس صورت میں مسلمانوں کے پھلنے پھولنے کے قوی امکانات نظر آرہے ہیں۔
یورپ کی مسلم آبادی کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ پیدائشی مسلم ہیں، کچھ غیر یورپین ہیں، جو باہر کے ملکوں سے آئے ہوئے ہیں اور یہاں کی شہریت حاصل کی ہے اور کچھ نوآموز مسلم ہیں۔اسی طرح سے مسلمانوں کا یورپی معیشت میں بھی کافی حصہ ہے۔
یورپ اور امریکا کا آئین بڑے ہی زور و شور سے مذہبی آزادی کی بات کر رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ نجی معاملات میں مسلمانوں کو اس بات کا حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نجی زندگی اسلامی عقائد کے مطابق گزاریں۔ لیکن جو چیز روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسلمان جس جگہ پر بھی کسی معاملے میں قوت بن کر سامنے آرہے ہیں، وہاں پر ان کا قافیہ حیات تنگ کر دیا جاتاہے۔ اس لیے کہ یہ کسی طرح باقی لوگوں کو بھی اسی دین رحمت کے سایے تلے جمع نہ کریں۔ پھر کئی بہانے تراش کر کے عالمی میڈیا میں ایک بیانیہ چھوڑ دیا جاتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام دشمنی کی سازشیں بھی عالمی سطح پر یورپ ہی میں تیار کی جاتی ہیں۔ پھر وقتاً فوقتاً یہ خبریں ٹی وی اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر عام ہوجاتی ہیں اور ہر کوئی انسان اس چیز کو عین الیقین کے طور پر محسوس کرتا ہے کہ کس طرح مسلمانوں کے مذہبی حقوق سلب کردیے جاتے ہیں۔ پھر چاہے وہ فرانس اور بیلجیم میں حجاب پر پابندی ہو، سوئزر لینڈ میں مسجدوں و ممبروں پر میناروں کی تعمیر پر قدغنیں ہوں، یا ہالینڈ کی پارلیمنٹ سے اٹھنے والی اسلام دشمنی کی لہر ہو، یا مسلمان نام سنتے ہی امیگریشن پر مسلمانوں کو ہراساں کرنا ہو۔
مغرب میں مسلم اقلیتوں کے لیے سب سے بڑا چلینچ اپنی شناخت کو قائم رکھنے کا ہے۔ چنانچہ جہاں ہرسوں عریانی و فحاشی ہو، لادینی و خدا بیزاری ہو، مادیت و زر پرستی کا غلبہ ہو، وہاں پر اپنے تشخص کو بچائے رکھنا کار دارد والا معاملہ ہوتا ہے۔ ان نازک حالات کا اثر انسان کے ایمان و اعتقاد پر براہ راست پڑتا ہے۔ انسان اگرا اپنا تشخص برقرار رکھ نہ پائے تو اس کا اثر خاندان اور بچوں پر بھی پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں والدین کو جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ والدین اگر اس حوالے سے چوکنا نہ ہوں تو مسلمان نسل خدا نخواستہ تحلیل ہو سکتی ہے۔ لیکن اس چیلنج کے اندر ہی مسلمانوں کے لیے اجر دارین کمانے کے کئی سارے مواقع ہیں۔ اور وہ ہے اپنے تشخص، دین داری، نیک نیتی، امانت داری، سنت نبویؐ کی پیروی اور اپنی مجموعی زندگی سے دوسروں کو دعوت دینا۔ جہاں پر غیر مسلم رہ رہے ہوں وہاں مسلمان کے معاملات ہی اُس کی اصل اور موثر دعوت ہوتی ہے۔ اس کے بعد پروگرامات کا انعقاد کرکے، رسمی و غیر رسمی طور طریقوں سے اسلام کی طرف لوگوں کو دعوت دینا بھی ایک نادر موقع بن سکتا ہے۔ اس سلسلے میں یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے کہ ایسے ممالک میں بھی اللہ کے نیک بندے لوگوں کو اسلام کی طرف بلا رہے ہیں، اور جن کی کوششوں سے بہت سارے لوگ مشرف الاسلام ہورہے ہیں۔
دوسرا بڑا مسئلہ یہاں کے مسلمانوں کے لیے یہ ہے کہ کسی بھی طرح اپنے برادران وطن سے پیچھے نہ رہیں۔ چاہے وہ تعلیم ہو، تربیت ہو، معیشت ہو، یا باقی معاملات۔ اپنی مجموعی صورتحال کی بہتری کے علاوہ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ مسلمان جس سماج و ثقافت میں رہ رہے ہوں، اُن سے وہ الگ تھلگ نہ ہوجائیں۔ اُن کے ساتھ مراسم قائم رکھنے چاہئیں، تجارت و لین دین بھی کرنا چاہیے اور بقدر ضرورت ایک دوسرے کے معاملات میں شرکت بھی کرنی چاہیے۔ اگر وہ اپنے وطن کی ترقی و فلاحی سے قطع تعلق اختیار کریں تو یہ اُن کے لیے بہت سی مصیبتوں کا موجب بن سکتا ہے۔ اگر مسلمان اپنے وطن کی زمین سے پیار ومحبت قائم رکھنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہی چیز اُن کے لیے اسلا م کی ترقی کے مواقع فراہم کرسکتی ہے، نہیں تو انہیں شک کی نظروں سے دیکھا جائے گا۔
تیسرا بڑا مسئلہ جس کا سامنا مغرب میں مسلم اقلیت کو کرنا پڑتا ہے اسلام کے خلاف عالمی میڈیا کا پروپیگنڈا ہے، جسے اسلامو فوبیا کے نام سے بھی ہم جانتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 9/11 کے حملوں کے بعد مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی اور مغربی ممالک میں مسلم اقلیتوں کو خاص کر اس چیز کا بارہا مشاہد ہ ہوتا ہے کہ کس طرح سے محض ’مسلم‘ نام ہی سے لوگوں کی نیتیں بدل جاتی ہیں۔ چنانچہ کسی باپردہ عورت کو ایک دوسری نظر دیکھا جاتا ہے۔ اسلام کا اظہار کرنے پر لوگ طرح طرح کے سوالات کرتے ہیں۔ ہوائی اڈوں پر ڈاڑھی والے یا حجاب میں باپردہ عورت کو سنگین تلاشی سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھار انہیں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ دنیا تو جدیدیت، آزادی اظہار اور آزادی مذہب کی دم بھرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابھی بھی مسلمانوں کے ناموں پر ہی شک کیا جاتا ہے اور انہیں متعصب نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔
چوتھا مسئلہ یہاں کے مسلمانوں کو فقہ اسلامی کے تناظر میں پیش آتا ہے۔ مغرب چنانچہ دنیاوی علم کے خزائن کو لے کر بہت آگے نکل چکا ہے، ٹیکنالوجی اور رسل و رسائل میں بھی آگے ہیں، تجارت و بینکنک کے حوالے سے بھی ترقی یافتہ ہیں۔ لیکن ایسی صورتحال میں دین سے رہنمائی حاصل کر کے کھرے اور کھوٹے میں فرق کرنا بھی ایک اجتہادی عمل کا متقاضی ہے۔ یہاں کچھ ایسے معاملے پیش آتے ہیں جو دنیا کے باقی ملکوں میں دیکھنے کو نہیں ملتے۔ اس سلسلے میں وہ قرآن و سنت کی صحیح تطبیق کرکے اصولوں سے رہنمائی کس طرح حاصل کریں اور اپنی زندگی کے جملہ معاملات کا مغربی سوسائٹی میں رہ کے بھی اسلام کے دائرے میں کس طرح کریں؟ یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اسی چیز نے فقہ کے ایک اور شعبے کو جنم دیا ہے جسے ’’فقہ الاقلیات‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں وہاں کے علماء کو کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔ اسلام چنانچہ ایک عالمی و زماں و مکاں کی قیود سے آزاد مذہب ہے، اس لیے قرآن وحدیث سے اخذ کردہ اصولوں کو بروئے کار لا کر لوگوں کی آسان اور صحیح رہنمائی کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
مذہبی، سیاسی و سماجی سطحوں پر اور بھی کچھ مسئلے ہیں جن سے مغرب کی مسلمان اقلیت گزر رہی ہے، اور جن کی طرف کوئی خاطر خواہ دھیان بھی نہیں دیا جاتا ہے۔ علاوہ ازین مشرقی مسلمان ممالک کے لیے یہ ایک بڑا تحقیق کا موضوع ہے، کیوں کہ اس میدان میں ابھی کوئی خاص کام نہیں ہوا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آزادی اظہار رائے اور آزادی مذہب کے آئینی حقوق مسلمان بھی استعمال کر سکیں۔ اسلام دشمنی سے پرہیز کرتے ہوئے ایسی پالیسی اختیار کرنے سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے جن سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوجائیں۔ مسلمانوں کو اپنے اسلاف کی علم و فقہ کے تئیں خدمات کو مغربی سوسائٹی کے تناظر میں مدون کرنے کی ضرورت ہے۔ کثیر الثقافتی و کثیر التمدنی نظریے کو اختیار کرکے مسلمانوں کو دعوت و تبلیغ کا کام کرنے میں کوئی دقعت پیش نہیں آنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمان ممالک کے حکمرانوں کے اوپر بھی یہ ذمے واری عائد ہوتی ہے کہ وہ مہاجرین کے بحران کو ختم کرنے میں اپنا ایک خاص رول ادا کریں۔ آخر میں اس چیز کا اعادہ بھی ضروری ہے کہ انسانیت انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین و نظامات میں تنگ آچکی ہے۔ قرآن و سنت کے پیش کردہ اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام کو جدید پیرائے میں اگر پیش کیا جائے اور مغرب کے ان ملکوں میں دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ لڑیچر کو بھی اگر بڑے پیمانے پر تقسیم کیا جائے، تو یہاں سے بھی لالہ اللہ کی صداآنے کے قوی امکانا ت ہیں۔