نمازیوں کو مصلیٰ باب رحمت سے دور کرنے پر اسرائیل کے خلاف احتجاج

263
مقبوضہ بیت المقدس: مصلیٰ باب رحمت میں داخلے سے روکے جانے پر فلسطینی شہری باہر ہی نماز ادا اور احتجاج کررہے ہیں
مقبوضہ بیت المقدس: مصلیٰ باب رحمت میں داخلے سے روکے جانے پر فلسطینی شہری باہر ہی نماز ادا اور احتجاج کررہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) مسجد اقصیٰ کے دروازے باب رحمت پر ایک ہفتے سے کشیدگی برقرار ہے۔ اس دوران قابض صہیونی فوج نے اس علاقے کو بند، نمازیوں کو روکنے، ان پر تشدد اور گرفتار کرنے سمیت کئی مذموم ہتھکنڈے اپنائے۔ اس تناظر میں ہفتے کے روز باب رحمت کے سامنے قبرستان میں فلسطینیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مسجد اقصیٰ میں نماز سے محروم کیے جانے والے ان فلسطینیوں نے قابض فوج کے اس اقدام اور مظالم کے خلاف آواز بلند کی۔ اس دوران قابض صہیونی فوج نے قبرستان میں داخل ہوکر مظاہرین کو ڈرانے کی بھی کوشش کی۔ دوسری جانب قابض صہیونی فوج کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں اور پابندیوں کے باوجود جمعہ کے روز 3ہزار فلسطینی مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ صہیونی فوج اور پولیس نے مسجد اقصیٰ کے اطراف میں موجود راستے جمعہ کو علی الصبح سے سیل کردیے تھے۔ جمعہ کو علی الصبح قابض فوج کی بھاری نفری نے پرانے بیت المقدس کو اور قبلہ اول کے تمام راستے سیل کر دیے تھے۔ فلسطینیوں کی بڑی تعداد صبح کے وقت ہی سے مسجد اقصیٰ میں آنا شروع ہوگئی تھی۔ فلسطینی نمازیوں کی بڑی تعداد نے مسجد اقصیٰ کے بابِ رحمت میں نماز جمعہ ادا کی۔ خیال رہے کہ باب رحمت گزشتہ 16 سال سے بند تھا، جسے حال ہی میں فلسطینیوں نے احتجاج کے بعد کھلوایا تھا۔ ادھر جامعہ الازہر نے مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ میں یہودی آباد کاروں کے دھاووں اور اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ جامعہ الازہر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کی کارروائیاں مذہبی انتہا پسندی کا کھلا ثبوت ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے بیت المقدس میں حالیہ ایام میں انتقامی کارروائیوں کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ یہودی آباد کاروں کے قبلہ اول پر دھاوے اور مقدس مقام کی بے حرمتی ناقبل قبول اور مذہبی غنڈہ گردی کے مترادف ہے۔ جامعہ الازہر نے مسجد اقصیٰ کے باب رحمت میں فلسطینی نمازیوں پر تشدد اور وہاں پر یہودی آباد کاروں کے دھاووں کی شدید مذمت کی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ اور اس کے تمام ارکان پرصرف مسلمانوں کا حق ہے اور اسرائیلی ایک طے شدہ منصوبے تحت مسجد اقصیٰ کی زمانی اور مکانی تقسیم کی سازش کررہے ہیں۔ اسی طرح فلسطین کے محصور علاقے غزہ کی پٹی میں ہفتہ وار پُرامن مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں پر اسرائیل کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیے جانے کے بعد صہیونی ریاست کے جرائم کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی سامنے آگیا۔ غزہ کی ناکابندی کے خاتمے کے لیے سرگرم عالمی کمیٹی کے لندن میں قائم صدر دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پُرامن اور نہتے مظاہرین کے خلاف اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حربوں کا استعمال ناقابل قبول اور انسانیت کے خلاف کھلم کھلا جرم ہے۔ اسرائیلی فوج کے جرائم کی عالمی سطح پر آزادانہ تحقیقات کر کے جرائم میں ملوث صہیونیوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ عالمی کمیٹی برائے انسداد ناکابندی غزہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی ریاست نے عالمی ادارے میں اسرائیلی فوج کے فلسطینیوں کے خلاف جرائم کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔