خود نمائی سے خودآگاہی کی طرف سفر

124

 

نزہت منعم

ہم نے اپنے پچھلے آرٹیکل کا اختتام ان الفاظ پر کیا تھا، ’’حرمت رسولؐ، علمائے کرام کی تعظیم، دینی شعائر کا احترام، سود اور ام الخبائث کی روک تھام، فحاشی کے خلاف ایک زبان ہو کر آواز بلند کرنا، میڈیا کو آئین پاکستان کے دائرے میں لانا، این جی اوز کی سرگرمیوں کو محدود کرنا، نصاب کی اسلامی بنیادوں پر تشکیل، اور تعلیمی اداروں میں اسلامی ماحول کی ترویج یہ وہ امور ہیں جن پر ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہیے۔ مضبوط اور مربوط کام، اس کے لیے فی زمانہ اولین شرط یہ ہے کہ ہم خود نمائی سے خود آگاہی کی طرف سفر کریں اور یہ کام ہم جتنا جلد کرلیں اتنا اچھا ہے ورنہ نہ تاریخ ہمیں معاف کرے گی نہ آنے والی نسلیں!!۔
قارئین کی رائے ہے کہ خود نمائی اور خود آگاہی پر مزید بات ہونی چاہیے۔ اس لیے مزید کچھ یاد دہانی۔۔۔
خود آگاہی کی طرف سفر کرنے سے پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ خود فراموشی کیا ہے؟
سورہ حشر میں اللہ تعالی فرماتے ہیں۔ ترجمہ: ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا نفس بھلا دیا۔ یہی لوگ فاسق ہیں۔ (سورہ حشر: 19)
اس آیت سے یہ بات تو واضح ہے کہ خود فراموشی خدا فراموشی کا نتیجہ ہوتی ہے، خدا فراموشی بجائے خود ایک سزا ہے، ربّ کو بھلانے کی سزا۔ لیکن ہم تو سب سے زیادہ خود کو جانتے ہیں، خود کو مانتے ہیں، ہماری زندگی کا دائرہ ’’میں‘‘ سے شروع ہوکر ’’میں‘‘ پر ختم ہوتا ہے۔ میں سب سے منفرد لگوں، میرا لباس سب سے عمدہ ہو۔ میرے علم کا سب پر رعب قائم ہو، مجھے سراہا جائے، ہر حال میں میری جیت ہو، اور سارا زور اسی پر صرف ہو۔ یہی خود نمائی ہے۔ اور خود فراموشی یہ ہے کہ انسان اپنا مقصد وجود بھلا دے۔ میں کون ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟ کیا کررہا ہوں؟ اور کہاں چلا جاؤں گا؟ زندگی کے یہ بنیادی سوال پس پشت ڈال دے۔ اور جب ان سوالوں کے جواب دینے کا وقت آئے تو ساری محنتوں کے باوجود دامن خالی ہو۔
خود نمائی کے اس مرض کو پروان چڑھانے میں سب سے اہم کردار سوشل میڈیا کا ہے۔ ہمہ وقت اپنی ذات کے دائرے میں گھومنا کتنی likes، کتنی sharing، کتنے friends، بس دل اس میں اٹکا رہے۔ اور جس میں دل اٹکے ربّ سے غافل کردے وہ لھو الحدیث ہے۔ خود نمائی خود ستائش کو جنم دیتی ہے اور خود ستائش خود پرستش کی طرف لے جاتی ہے اور انسان کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔ اسی لیے تو شرک کو سیاہ رات میں سیاہ پتھر پر سیاہ چیونٹی سے مماثلت دی گئی ہے۔ انسان انجانے میں اس کا شکار ہو جاتا ہے۔ کام با مقصد ہو تب بھی حب جاہ مطلوب نہیں ہے۔
ہماری تاریخ مفکرین، مدبرین، اہل علم، اور عبقریوں سے بھری پڑی ہے۔ وہ صدیاں جو ہمارا سنہرا دور کہلاتی ہیں جب علم کے میدان میں اہل علم جھنڈے گاڑ رہے تھے جب سوشل میڈیا نہیں تھا لیکن اس علم کی بنیاد پر آج یورپ کی ترقی کی عمارت کھڑی ہے۔ ابن ابی ملیکہ ، حافظ ابن حجر، ابن جریر طبری اور ایک لمبی فہرست ہم سوشل میڈیا کے ذریعے سے ان عبقریوں کے نام ہی ا پنی نسلوں کو یاد کروا دیتے۔ لیکن اس میں لگتی ہے محنت زیادہ۔
اب اگر خود فراموشی خدا فراموشی کا نتیجہ ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں خود آگاہی دراصل خدا آگاہی ہے، اللہ کا عرفان ہے، اپنے مقصد وجود کی جستجو انسان کو اپنے ربّ سے ملا دیتی ہے۔ ایسے میں خود شناسا لوگ اپنی توجہ اپنے مقصد، اپنے مشن پر رکھتے ہیں۔ انہیں اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں لوگ کیا کررہے ہیں، وہ لوگوں کی خواہشات پر نہیں جیتے اور دنیا کو وہ کچھ دے کر چلے جاتے ہیں جس کا ادراک بعض اوقات دنیا کو بہت بعد میں ہوتا ہے۔ کیوں کہ ایسے لوگ اپنی شہرت کو پلان نہیں کرتے جبکہ آج کل شہرت کی بھی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ خود نمائی کے اثرات فوری اور وقتی ہوتے ہیں۔ جبکہ خود آگاہ شخص کے اثرات دیرپا اور ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہیں۔
کارِ نبوت ایک بڑا کام ہے، ایک بھاری ذمے داری، جو آخری نبیؐ کی امت ہونے کے ناتے اب ہمارے کندھوں پر ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے اس لیے کامیاب نہیں ہورہے کہ وہ اپنی ذات کے دائرے سے باہر نہیں آرہے، اس کام میں فرد فنا ہوتا ہے تو قوم ابھرتی ہے۔ جب اپنی ذات پر کام ہو تو قوم یا اجتماعیت کیسے ابھرے گی؟ جن لوگوں نے دنیا میں بڑا کام کیا انہوں نے خود کو فنا کیا، ٹیپو سلطان اور قائد اعظم بہترین مثالیں ہیں اور زیادہ پرانی مثالیں بھی نہیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ایک ایک لفظ ایک ایک عمل ٹویٹ کیے جانے کے قابل ہے، اصل بات تو یہ ہے کہ عظمت (greatness) کا فیصلہ تاریخ کرتی ہے، معتبر ہونے کا فیصلہ وقت کرتا ہے، امر ہونے کا فیصلہ تاریخ کرتی ہے۔
معاشرتی، قومی اور امت کے دائرے میں ہمیں جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں سے چند کی نشاندہی اس مضمون کی ابتداء میں کی گئی ہے۔ کیا اس وقت رہنمائی کے منصب فائز لوگ اپنے آگے آنے والوں کے لیے کوئی راہنمائی، کوئی سنہرے اصول، کوئی مضبوط اور مربوط کام کی بنیاد ڈال کر جائیں گے یا بس بات ظاہری اور ذاتی چکا چوند سے آگے نہیں بڑھ پائے گی؟؟
اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت
دے ان کو سبق خود شکنی، خود نگری کا
تو ان کو سکھا خارا شگافی کے طریقے
مغرب نے سکھایا ان کو فن شیشہ گری کا
دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی
داروْ کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا