حکومت پلوامہ حملے کی صفائی دینے کے بجائے کشمیریوں کی وکیل بنے ،سراج الحق

139
پشاور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق وکلا سے خطاب کررہے ہیں
پشاور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق وکلا سے خطاب کررہے ہیں

لاہور( نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت پلواما حملے پر صفائی دینے کے بجائے کشمیریوں کی وکیل بنے‘ نئی دہلی ہمیں مسلسل لاشیں بھجوا رہا ہے‘ حکومت نے بھارتی پائلٹ کو عجلت میں رہا کیا‘ ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آیا‘ عالمی برادری مسئلہ کشمیر حل کرائے‘ حکمرانوں کے پاس کوئی معاشی ایجنڈا نہیں‘ بسنامعلوم سمت میں چلے جا رہے ہیں‘ وکلا اسلامی نظام کے قیام کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں اسلامک لایئر ز فورم کے صوبائی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی، نائب صدر سپریم کورٹ بار خان افضل، امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی خطاب کیا جب کہ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی عبدالاکبر چترالی، سابق رکن قومی اسمبلی شبیر احمد خان، نائب امیر جماعت اسلامی اسد اللہ بھٹو اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ فوج نے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے بھارتی پائلٹ کو پکڑا لیکن حکومت نے اس کی رہائی میں جلد بازی کی‘ ایسے حالات میں صبر و تحمل اور مذاکرات کی ضرورت تھی‘ حکومت کی جلد بازی کی وجہ سے ہمارے ہاتھوں میں کچھ نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں لاکھوں نوجوانوں کا خون بہایا‘ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی‘ پاکستان پر 3 جنگیں مسلط کی گئیں اور ہمارے مشرقی بازو کو توڑ کر بنگلادیش بنایاگیا مگر حکمران خاموش رہے‘ اب یہ خاموشی توڑنے اور کچھ کر گزرنے کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کا فرض ہے کہ قیام امن کے لیے آگے بڑھے‘ کشمیریوں کے حقوق کے حصول کے لیے ان کا ساتھ دے اور خطے کو جنگ سے بچانے کے لیے کشمیر کے مسئلے کا حل نکالے‘ 22 کروڑ عوام کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں لیکن حکومت کشمیر کے مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہر ہ نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان نامکمل ہے‘ وکلا اس ملک میں موثر آواز اور قوت ہیں‘ وہ ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں اور اسلامی نظام کے لیے سفیر بنیں۔ انہو ں نے کہا کہ بھارت ہمیں لاشیں بھجوا رہا ہے اور مسلسل گولاباری سے ایل او سی کے دونوں طرف معصوم لوگوں کا قتل عام کر رہا ہے اور ہم اس سے امن پسندی کی توقع لگائے بیٹھے ہیں‘ گزشتہ 6 مہینوں میں حکومت نے ثابت کیا ہے کہ ان کے پاس کوئی وژن، معاشی ایجنڈا اور آگے بڑھنے کا پروگرام نہیں ہے‘ حکومت نے100 دن مانگے تھے‘ کسی سیاسی جماعت نے حکومت کے لیے مشکلات پیدا نہیں کیں‘6 ماہ گزر گئے لیکن حکومت کا حال یہ ہے کہ ’’منزل نہیں معلوم اور چلا جا رہا ہوں‘‘۔ پلوامہ واقعے کے بعد حکومت کو اپنی صفائی پیش کرنے کے بجائے اس مظلوم قوم کی وکالت کرنی چاہیے تھی جس کی گردنوں پر 8 لاکھ بھارتی فوجی سوار ہیں‘ کشمیر میں فوجی مظالم کے خلاف پی ایچ ڈی ڈاکٹرز یونیورسٹیوں کو چھوڑ کر پہاڑوں پرچلے گئے ہیں اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم اور بھارتی آرمی کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں‘ کشمیر میں سکھ اپنے گورداروں میں مسلمانوں کو پناہ دے رہے ہیں جب کہ عیسائی، سکھ اور نچلی ذات کے ہندو بھارت سے بغاوت کر رہے ہیں‘ بھارت میں درجنوں ریاستیں خود مختاری اور آزادی مانگ رہی ہیں۔