انگلی مت اٹھانا بازو توڑ کے رکھ دیں گے

193

 

محمد انور

بالآخر وہی ہوا جس کا یقین پاکستانی قوم کو تھا۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ دشمن ہماری سرحد عبور کرنے کے باوجود بچ کر نکل جائے۔ ابھی چند روز پہلے ہی تو اپنے ایک نغمے میں پاک فوج نے کہا تھا کہ
’’انگلی مت اٹھانا بازو توڑ کے رکھ دیں گے
غلطی سے جو للکارے گا تو کاٹ کے رکھ دیں گے
ہم پاکستانی مجاہد ہیں اس دھرتی کے رکھوالے
ہم جان کی بازی کھیل کر تجھ کو کاٹ کر رکھ دیں گے‘‘
بھارت کی گیدڑ بھبکیاں ختم ہوئیں اور ان کے بدلے میں ’’جگ ہنسائی‘‘ شروع ہوچکی۔ جھوٹے دعوے بھی ایسے کہ بھارتی خود ہی تسلیم کرنے کے بجائے اس پر ہنس رہے ہیں۔ نریندر مودی انڈیا کا اس سے بھی برا حال کرسکتا ہے اگر وہ وزیراعظم رہ گیا۔ بدھ کو بھارتی طیاروں کی دوسری جنگی کارروائی کا پاکستان کی فضائیہ نے ’’منہ توڑ‘‘ جواب دے کر بھارت کے اوسان خطا کردیے بلکہ یوں کہا جائے کہ اب تو ان کے ’’تعزیے ٹھنڈے‘‘ بھی ہوگئے ہوں گے تو بھی غلط نہیں ہوگا۔
بھارت نے بلاوجہ اشتعال انگیز دراندازی کرکے جنگی ماحول تو خود بنایا تھا۔ منگل کو بھارتی فضائیہ نے آزاد کشمیر سے کنٹرول لائن کراس کرکے جو کارروائی کی اس سے بالا کوٹ کے قریب چار درخت ہی تو شہید ہوئے تھے۔ مگر پاکستانی فوج نے چاہنے اور اختیار رکھنے کے باوجود فوری کوئی ایسی کارروائی نہیں کی جس سے بھارت کا نقصان ہو۔ انڈین طیاروں کی اس مضحکہ خیز کارروائی پر ہماری ائرفورس کے طیاروں نے ابھی محض پرواز ہی بھری تھی کہ حملہ آور بھاگ گئے تھے۔ بھارتی طیاروں کی اس طرح کی کارروائی سے پاکستان نے یہ محسوس کیا تھا کہ کوئی ان کے دروازے پر شرارتاً دستک دے کر بھاگ گیا ہو۔ نتیجے میں پھر پاکستان کی فضائیہ نے وہی کچھ کر دکھایا بلکہ شرارتی دشمن سے جو کچھ چند گھنٹے پہلے کہا تھا وہ کر دکھایا۔ ایسا کرتے ہوئے پاکستانی فوج نے صرف چوکنا رہنے کا ہی ثبوت نہیں دیا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہے۔ خیال رہے کہ آزاد کشمیر کے قریب منگل کو بھارتی فوج کی دراندازی پر ’’جسارت‘‘ کی تجزیاتی رپورٹ میں بھی یہ کہہ دیا گیا تھا کہ ’’بھارت نے دراندازی کرکے خود جنگ شروع کی ہے، نقصان بھی اسی کا ہوگا‘‘۔ اور پھر بدھ کی صبح ایسا ہی کچھ ہو گیا۔ یاد رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بدھ کو کہا تھا کہ ’’بھارتی طیاروں نے آج صبح کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی جس پر پاک فضائیہ نے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 2 بھارتی طیارے مار گرائے‘‘۔ ان کے مطابق دونوں بھارتی طیاروں کو پاکستانی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا تھا، ایک بھارتی طیارہ آزاد جموں کشمیر اور دوسرا مقبوضہ کشمیر کی حدود میں گرا۔
بھارتی فضائیہ کے سابق چیف کے ونگ کمانڈر بیٹے ابھے نندن کا اس کارروائی کے لیے انتخاب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایکشن منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔ ابھے نندن بھارتی فضائیہ کے ماہر افسر مانے جاتے ہیں۔ پاک فوج کی اصل کامیابی تو یہی ہے کہ اس نے بھارتی جنگی طیارے کے ماہر ہوا باز کو طیارہ سمیت مارا گرایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاک فوج نے بھارتی فوج کے ماہر افسر کو ناکام کارروائی کے بعد جہاز سمیت گرائے جانے کے باوجود اسے مقامی لوگوں کے فطری اشتعال سے بچایا اور اس کا دل جیت لیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ابھے نندن نے پاک آرمی کے کردار کی تعریف کی۔ واضح رہے کہ پاکستان آرمی نے ایسا کرکے فضائی جنگ کے ساتھ اخلاقی جنگ بھی جیت لی ہے۔ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار آزاد کشمیر کے مقامی لوگوں کے غصے سے بھارتی ونگ کمانڈر کو نہیں بچایا جاتا تو عین ممکن تھا کہ وہ اسے شدید نقصان پہنچاتے بلکہ وہ کچھ کر جاتے جو بھارت میں مسلمانوں خصوصاً کشمیریوں کے ساتھ وہاں کی فورسز کیا کرتی ہیں۔
اہم بات پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی بھی ہے کہ انہوں نے بھارتی فضائیہ کی اس کارروائی کو پاک فوج کی طرف سے باآسانی ناکام بنانے کے باوجود علاقائی امن کے لیے دوبارہ بھارت کو امن کا پیغام دیا۔ ایسا کرکے انہوں نے پوری دنیا پر یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا بلکہ بھارت سمیت تمام ممالک کی طرف سے خوشگوار تعلقات کو متمنی ہے۔ یقیناًوزیراعظم عمران خان کے قوم کے اس خطاب اور ان کے بھارت کو پرامن رہنے کے مشورے کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہوگا۔ لیکن دوسری طرف بھارت میں پاکستان کے خلاف دوسری جارحانہ کارروائی پر مودی حکومت کے خلاف نفرتیں بڑھنے لگیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بھارتیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب کرنے اور دنیا بھر میں بھارت کا مذاق اڑوانے کے ذمے دار نریندر مودی اور ان کی حکومت ہے۔ ان حالات میں خیال ہے کہ بھارت کے عام انتخابات میں مودی کی کامیابی تو کجا ان کی جاری پالیسیاں انہیں ہمیشہ کے لیے سیاست سے کنارہ کرنے پر مجبور کردیں گی۔ نریندرمودی نے بلاوجہ اور زبردستی جنگ کا ماحول پیدا کرنے کے لیے پلوامہ حملے کی ذمے داری پاکستان پر ڈالی تھی۔ مودی کی یہ ایک ایسی بھیانک غلطی ہے جس کے اثرات سے ان کی سیاست تو ختم ہوسکتی ہے لیکن انہیں شدید ذہنی دباؤ کا شکار بھی کردے گی ممکن ہے کہ نریندرمودی اپنے دوست ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جلد ہی بدنام دماغی مریض بن جائیں کیوں کہ دونوں کی جاری ’’حرکتیں‘‘ کسی بھی قسم کے فائدے سے خالی لگتی ہیں۔ جس سے شواہد بھی سامنے آنے لگے ہیں۔