پاکستان نے او آئی سی اجلاس کا بائیکاٹ کردیا،پارلیمنٹ میں بھارت کیخلاف متفقہ قرارداد منظور

206

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) پاک بھارت کشیدگی پر دوسرے روز بھی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں بھارتی دراندازی اور جارحیت کیخلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں حکومت اور اپوزیشن نے یک زبان ہوکر بھارتی جنگی جنون کی شدید مذمت کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی دراندازی اور جارحیت کیخلاف قرارداد پیش کی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کو دعوت دینے پر او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کو او آئی سی کا مبصر رکن بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔اس موقع پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بائیکاٹ کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے مزید سفارت کاری کی تجویز بھی دے دی۔ انہوں نے کہا کہ دوست ممالک کو چاہیے کہ وہ کھل کر ہماری حمایت میں سامنے آئیں، پاکستان کے عوام کی ترجمانی ہے کہ او آئی سی اجلاس میں نہیں جارہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت و اپوزیشن پر مشتمل وفود دوست ممالک بھجوانے چاہئیں اور ایک مرتبہ پھر اپنا نکتہ نظر متحدہ عرب امارات کو بتانا چاہیے۔مشترکہ اجلاس میں خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کی او آئی سی کا رکن بننے کی دیرینہ خواہش ہے، آج اسے مہمان، کل مبصر اور پھر رکن بنا دیا جائے گا۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے تعاون کرنے پر اپوزیشن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دوبارہ حملہ ہوا تو ایسا بدلہ لیں گے کہ تاریخ یاد کرے گی۔شیری رحمن نے کہا کہ پارلیمنٹ نے اتحاد کا شاندار مظاہرہ کیا، حکومت پارلیمان کو عزت دے گی تو پارلیمان بھی آپ کو عزت دے گی، ہم پرچم اور آئین سے وفاداری کررہے ہیں، بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا حکومت کا بہت اچھا فیصلہ ہے۔ایم کیو ایم کے رہنما صابر قائم خانی نے کہا کہ ہمیں مودی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ بھارت نے حملہ کرکے پوری پاکستانی قوم کو متحد کردیا، آج ہر شخص، حسن صدیقی اور ایم ایم عالم ہے، بھارت نے ہمیں توڑنے کے لیے حملہ کیا لیکن خود اپنا وجود خطرے میں ڈال لیا۔بعدا زاں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔