دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرملک پاکستان ہے: پاک ترک فرینڈشپ چیئرمین علی شاہین

127
Ali Sahin علی شاہین
پاک ۔ترک انٹر پارلیمنٹری فرینڈشپ گروپ کے چیئرمین علی شاہین نے   مسئلہ کشمیر  پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوحل کیے  بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان امن ممکن نہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارے پر بھی سوال اٹھایا کہ اس  کا قیام کیوں عمل میں آیا ؟
تفصیلات کے مطابق ترکی کی پارلیمنٹ میں ترکی پاکستان انٹر پارلیمنٹری فرینڈشپ گروپ کے چیئرمین علی شاہین نے ٹی آر ٹی اردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے قیام ہی سے چلا آ رہا ہے لیکن آج تک اقوام متحدہ اس مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
میں پوچھتا ہوں اقوام متحدہ کا قیام کیوں عمل میں آیا ؟انہوں نے کہا کہ کیا یہ ادارہ جنگ روکنے اور دنیا میں امن کے قیام کے لئے قائم نہیں کیا گیا تھا ؟لیکن بدقسمتی سے یہ ادارہ جس مقصد کے لئے قائم کیا گیا تھا اس کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان برملا کئی بار اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ دنیا پانچ سے عظیم تر ہے لیکن بدقسمتی سے اقوام متحدہ پر پانچ ممالک کو اپنی ویٹو پاور کی وجہ سے مکمل گرفت حاصل ہے ۔اسی لئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اقوام متحدہ میں نئے نظام کو متعارف کروانے کی ضرورت پر زور دیتے چلے آ رہے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ  سن1948 ہی سے مسئلہ کشمیر چلا آ رہا ہے اور پاکستان اور بھارت کے مابین  تین بار اس مسئلے کی وجہ سے جنگ ہوئی ۔اس لئے مسائل کے حل کے لیے دنیا کو منظم کرنا ضروری ہے ۔
انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تین بار جنگ ہوئی لیکن کسی کو بھی فتح حاصل نہیں ہوئی بلکہ دونوں ہی کو نقصان اٹھانا پڑا اور اگر اب بھی جنگ ہوتی ہے تو دونوں ہی کو نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ اس لئے دونوں ممالک کو اپنے تمام مسائل خاص طور پر مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے ۔مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر پاکستان اور بھارت کا امن ممکن نہیں ۔جب کہ پاک بھارت امن ہی خطے کا امن ہے ۔اسی لیے خطے کے ممالک کو دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی ضرورت ہے ۔
علی شاہین نے پلوامہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ  پاکستان نے بھارت کو  اس واقعہ کی چھان بین کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔ترکی ہونے کے ناطے ہم اس سلسلے میں اپنا رول ادا کرنے کے لئے تیار ہیں ۔اگر بھارت اور پاکستان واقعہ کی چھان بین کے لیے کوئی بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے پر رضامند ہوتے ہیں تو ترکی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا ملک ہے اور عقل سلیم سے ہی اس بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے اور یہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک سنہری موقع کی حیثیت بھی رکھتا ہے ۔
انہوں نے او آئی سی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے یہ ادارہ بھی اقوام متحدہ کی طرح اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اس لئے ترکی اور پاکستان  مل کر او آئی سی میں نیا میکانیزم تشکیل دینے میں کردار ادا کرسکتے ہیں ۔اگر او آئی سی  مضبوط ہوگا تو مسلم ممالک خود اپنے اس ادارے کے تحت اپنے مسائل حل کرسکیں گے ۔
ان کا کہنا تھا میں ترکی میں اپنے آپ کو ایک پاکستانی سمجھتا ہوں اور پاکستانی ہونے کے ناطے اپنا تن من دھن سب کچھ پاکستان پر قربان کرتا ہوں، پاکستان اور اردو زبان سے مجھے گہری  محبت ہے۔
واضح رہے کہ علی شاہین پاکستان میں طالبعلم کی حیثیت سے مقیم رہے ہیں۔