امریکا شمالی کوریا سربراہ ملاقات بے نتیجہ ختم

114
ہنوئی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ناکامی کا بوجھ اٹھائے واپسی کی راہ لے رہے ہیں

ہنوئی (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اُن کے درمیان 2 روزہ ملاقات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسری اہم ملاقات ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں ہوئی، جس کی کئی ماہ سے تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ سربراہی ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کِم جونگ اُن چاہتے ہیں کہ جوہری پروگرام کے خاتمے کے عوض شمالی کوریا پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں، مگر ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے معاملے پر جلد بازی سے کام لینا نہیں چاہتے مگر سربراہی ملاقات کے موقع پر انہوں نے کہا کہ معاہدے میں جلد بازی کے بجائے درست معاہدہ کرلینا زیادہ بہتر ہے۔ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار یا کسی میزائل کا مزید کوئی تجربہ نہیں کریں گے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئی، تاہم ٹیمیں مستقبل میں اس معاملے پر بات چیت جاری رکھیں گی۔ ٹرمپ کے مطابق وہ کِم جونگ اُن کے ساتھ اپنا تعلق بحال رکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب جنوبی کوریا نے سربراہ ملاقات کے بغیر کسی معاہدے کے اختتام کو قابل افسوس قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ملاقات کا خاتمہ معاملے کو مزید گہرائی میں دیکھنے اور دیرپا نتائج کے حصول کے لیے ایک موقع ثابت ہوگا۔