دسویں کراچی لٹریچر فیسٹیول کاآغاز ہوگیا،

527

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی لٹریچر فیسٹیول کراچی کے ادبی کیلینڈر کے ایک اہم مقام پر فائز ہے، اور مجھے خوشی ہے کہ یہ اس بار اپنے 10 سال مکمل کررہا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ادیب، شاعر، فنکار، اداکار اور وہ تمام افراد جو ادبی سرگرمیوں، ثقافتی ترقیات اور تخلیقی اظہار سے متعلق دلچسپی رکھتے ہیں ملاقات کرتے ہیں۔. یہ لوگ پاکستان کے دیگر شہروں اور بیرونی ممالک سے کراچی آئے ہیں، اور ا پنے ساتھ ایک خصوصی تازگی اور چمک لائے ہیں۔

کراچی لٹریچر فیسٹیول کراچی کے سالانہ ادبی اور ثقافتی رنگ اور تخلیقی اضافے کے علاوہ ہے اور یہ بتاتا ہے کہ اس شہر کے لوگ ادبی طور پرکس قدر فعال اور طاقتورہیں۔ میں اس فعال شہر کو KLF جیسا تحفہ دینے پر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کو مبارکباد دیتا ہوں۔

ان خیالات کا اظہار آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے زیر اہتمام کراچی کے بیچ لگژری ہوٹل میں یکم تا 3 مارچ تک منعقد ہونے والے 10 ویں کراچی لٹریچر فیسٹول کے افتتاح سے گورنرِ سندھ عمران اسماعیل نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس سے پہلے اپنے افتتاحی خطاب میں، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے منیجنگ ڈائریکٹر ارشد سعید حسین نے کہا آج دسویں KLF کی تقریب میں ہم نئی جہتوں اور ابھرتے ہوئے رجحانات کو سامنے لائیں گے، جس میں سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کا ادب، کتب ، اشاعت کے کام، ریڈنگ اور سوچنے کے اند پر اثر شامل ہے ۔ اس سال KLF نسبتاً نوجوان پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی اور کل کے چیلنجوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے۔ 

کراچی لٹریچر فیسٹیول صرف ایک فیسٹیول نہیں ہے بلکہ یہ آنے والے دنوں کا تصور بھی ہے، ایک سوشل موومنٹ ہے جو اپنے نوجوان ادبی مصنفین سے متاثر ہے ، اور انہیں روشنی میں دنیا کے سامنے لانا چاہتا ہے۔

کراچی لٹریچر فیسٹیول تین دنوں پر محیط ہے۔ اس فیسٹیول سے 200 سے زائد مقررجبکہ15 بین الاقوامی مقرروں بھی شامل ہوں گے۔ فیسٹیول کے تین دن کے دوران مختلف موضوعات پر 80 نشستیں ہوں گی۔ فیسٹیول میں بھی 30 سے زائد کتابوں کی رونمائی بھی کی جائے گی۔

کراچی لٹریچر فیسٹیول کے پہلے دن، انفاق فاؤنڈیشن نے بہترین اردو ادب انعام کا اعلان کیا جو رنگِ ادب پبلیکیشن کی جانب سے شائع کردہ صابر ظفر کی ایک کتاب’’روحِ قدم کی قسم‘‘ کو دیا گیا۔