چیف جسٹس کے نام خط

93

ایڈوکیٹ سپریم کورٹ
آف پاکستان

محترمی ومکرمّی عزت مآب !
جناب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب
سپریم کورٹ آف پاکستان
اسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ !!
محترم چیف جسٹس صاحب! نئے منصب پر فائز ہونے کی بہت بہت مبارکباد اور اللہ ربّ العالمین سے دل سے دعا گو ہوں کہ وہ آپ کی ذمے داریوں کی احسن ادائیگی میں آپ کا بہترین معاون ومددگار ہو، آمین۔
محترم چیف جسٹس صاحب! جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا کی کوئی حکومت ایسی نہیں جس کے دستور میں عدل و انصاف کے متعلق شاندار دفعات موجود نہ ہوں لیکن دنیا کی کسی حکومت کے پاس ایسا دستور موجود نہیں جس کی پشت پر اللہ کی باز پرس کا عقیدہ موجود ہو، یہ خصوصیات صرف اسلامی دستورِ پاکستان کو حاصل ہے، اور سرزمین پاکستان پوری دنیا میں وہ واحد اسلامی ریاست ہے جو اپنے آئین کے ذریعے ریاست پاکستان کو اس بات کا پابند کرتی ہے کہ حاکمیت الٰہیہ صرف اللہ ربّ العالمین کی ہے اور قرآن وسنت کی بالا دستی ہی قانون سازی کی بنیاد ہے، اور میری دلی خواہش ہے کہ آپ کا شمار ان لوگوں میں ہو جو قرآن وسنت کی بالا دستی کو اپنا زندگی کا مقصد اولین سمجھتے ہیں۔ اور امت مسلمہ کے تابناک ماضی کی روایات عدل و انصاف اور احتساب کوحقیقی معنوں میں قائم کر کے دکھا دیں، آمین۔
محترم چیف جسٹس صاحب!
موجودہ زمانے کے قانونی ودستوری مسائل پر اسلام کے دور کی اول ریاست مدینہ کی نظیریں precident چسپاں کرنے کا رجحان آج کل بہت بڑھ گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی مثالیں دیتے وقت ہم اس عظیم الشان فرق کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو اس وقت کے معاشرے اور ہمارے آج کے معاشرے میں اور اس وقت کے کارفرماؤں میں اور اْس دور کے کارفرماؤں میں فی الواقع موجود ہے۔
خلافت راشدہ کا زریں دور ہمارے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے جسے صحیح مقصد کے لیے استعمال نہ کیا گیا تو اسے ضائع کر دینے کے برابر ہے۔ اور آج پاکستانی قوم کو من حیثْ القوم اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم خلافت راشدہ کے دور کا بغور جائزہ لیں تا کہ اس وقت پاکستانی قوم کر پشن اور ظلم و زیادتی کے جس سمندر میں ڈوبتی جارہی ہے اس سے نکالا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ عدل و انصاف کا قیام ہی اسلام کا بنیادی مقصد ہے اور اسلام آیا ہی اس لیے کہ عدل قائم کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (سورۃ الحدید: ۲۵)
[ہم نے اپنے رسولوں کو ان روشن نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ انسان انصاف پر قائم ہو۔ اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں سخت طاقت ہے اور لوگوں کے لیے فوائد ہیں تاکہ اللہ یہ معلوم کرے کہ کون اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے یقیناًاللہ قوی اور زبردست ہے۔]
اسلام میں نظام عدل و انصاف اور قانونی مساوات کی اہمیت اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ قرآن کریم میں لفظ عدل کا ذکر 17 آیات میں ہوا ہے اور لفظ قسط بمعنی انصاف کے ساتھ ۳۲ آیات میں اس کا ذکر ہوا ہے، احادیث رسول کریم اور اقوال صحابہ میں تو عدل و عادل کی مدح اور ظالم وظلم کی مذمت سیکڑوں مرتبہ کی گئی ہے۔
1۔ سورۃ الشوریٰ آیت 15 اور مجھ کوعلم دیا گیا ہے کہ انصاف کروں تمہارے درمیان۔
2۔ سورۃ النساء کی آیت 58۔ اور جب بھی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو توعدل کے ساتھ کرو۔
3۔ سورۃ المائدہ آیت 8۔ اور کسی قوم کے ساتھ دشمنی کے باعث ہرگز عدل کو نہ چھوڑوں۔ عدل کرو کہ یہی تقویٰ سے نزدیک تر ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
سیاست شرعیہ کی عمارت (2) دوستونوں پر قائم ہے۔
1۔ مناصب اور عہدے اہل تر لوگوں کو دینا اور
2۔ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرنا۔
حافظ ابن قیم فرماتے ہیں:۔
اللہ کے دین کا مقصد یہی ہے کہ اس کے بندوں کے درمیان انصاف قائم کیا جائے اور لوگ انصاف پر قائم رہیں۔
عدل اور قسط کا مفہوم یہ ہے کہ حق دار کو اس کا حق دلانا اور دینا۔ عدل کا تقاضا مساوات اور برابری نہیں ہے بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ کسی شخص کے ساتھ بغیر افراط وتفریط کے وہ معاملہ کرنا جس کا وہ مستحق ہے۔ عدل و انصاف کی ترازو، ایسی صحیح اور متوازن ہونی چاہیے کہ وہ عمیق سے عمیق محبت اور شدید سے شدید عداوت بھی اس کے دونوں پلڑوں میں کسی پلڑے کو نہ جھکا سکیں۔ اور ظلم کے معنی کسی شخص کا حق روک لینا اور دبا دینا بھی ظلم ہے اور اس کا حق دوسرے شخص کو دے دینا بھی ظلم ہے۔ اورحق کی ادائیگی میں کمی کرنا یا تاخیر کرنا بھی ظلم ہے۔
محترم چیف صاحب! آپ یقیناًان تمام اصولوں سے بخوبی آگاہ ہوں گے اس وقت مقصد تحریر محض یاد دہانی ہے کہ شیطان انسان کے نفس میں خون کی طرح گردش کرتا ہے نہیں معلوم کب کیا اہم ذمے داری کو بھلادے اور ہم سوچ بھی نہ پائیں محترم چیف جسٹس صاحب! کسی ذمے داری یا اہم منصب پر فائز ہونا اور اپنے منصب کی ذمے داری پر جوابدہی کا احساس گویا الٹی چھری سے ذبح کیے جانے کے مترادف ہے۔
بخاری و مسلم میں وہ حدیث بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے جس میں کہا گیا کہ عدل و انصاف کرنے والے قاضی اور حاکم کو قیامت کے روز نور کے منبروں پر بٹھایا جائے گا۔
اور ساتھ ہی ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں دل ہلا دینے والی احادیث بھی موجود ہیں، جن میں ایک یہ ہے کہ:
جس شخص کو لوگوں کا قاضی بنایا گیا ہوتو وہ چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا ہے۔
آئمہ کرام چھری کے بغیر ذبح کے دو مطلب لیتے ہیں۔ ایک یہ کہ چھری سے جسم ذبح ہوتا ہے مگر یہاں پر جسمانی ذبح مراد نہیں ہے بلکہ روحانی اور اخلاقی ذبح مراد ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ چھری کے بغیر کسی دوسرے کْند آلے سے ذبح کرنے میں تکلیف زیادہ ہوتی ہے اس میں قاضی کی شدید ترین ہلاکت اور درد ناک عذاب کی طرف اشارہ ہے، اور ساتھ ہی ترغیب بھی ملتی ہے کہ:
اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک اس نے ظلم نہ کیا ہو جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ کی مدد اس سے الگ ہو جاتی ہے اور شیطان کا اس پر قبضہ ہوجاتا ہے۔
محترم چیف جسٹس صاحب! اللہ ربّ العالمین آپ کو مزید بلند درجات عطا فرمائے آمین! جناب آپ ایک اعلیٰ درجہ منصب امارت پر فائز ہوئے ہیں اور دستور پاکستان کے تحت اس مملکت خداداد پاکستان کے قاضی القضاۃ ہیں۔ میں اس سلسلے میں آپ کے ساتھ اپنی کچھ یادیں شیئر کروں گا کہ جب 1992ء میں ایک مطالعاتی دورے پر وکلا کے گروپ کے ساتھ سعودی عرب اور مصرگیا تھا مصر میں قاہرہ یونیورسٹی کے جوڈیشل کمپلیکس میں ہمارے گروپ کے لیے لیکچر کا اہتمام کیا گیا تھا۔ لیکچر کے لیے مصر کے ریٹائرڈ چیف جسٹس جناب عبداللہ حسین صاحب آئے جو بزرگ بھی ہو چکے تھے لیکن وہ صرف پاکستان سے آنے والے گروپ کی محبت میں وہاں لیکچر دینے آئے تھے اور ان کے لیکچر کا آغاز جس بات سے ہوا وہ بات یاد کر کے ہمیشہ فخروغرور سے میرا سر بلند ہو جاتا ہے انہوں نے فرمایا۔ مجھے دنیا میں ۳ کتابوں سے عقیدت ہے اور جنہیں میں انتہائی مقدس مانتا ہوں ان میں سب سے اول قرآن پاک ہے جو اللہ ربّ العا لمین کی کتاب ہے اورکتاب نمبر ۲ احادیث اور سیرت کی کتب اور تیسرے نمبر پر آئین پاکستان ہے یہ وہ واحد دستور ہے جو 65 اسلامی ممالک میں جو دستور تو رکھتے ہیں لیکن ان پر خصوصیت صرف دستور پاکستان کو حاصل ہے جس میں واضح طور پر اعلان کردیا گیا ہے کہ اس ریاست کا مذہب اسلام ہوگا اور حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور کوئی قانون قرآن وسنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔ دنیا کے کسی اسلامی ملک نے اس بات کو اختیار نہیں کیا، یہ دستور پاکستان ہمارے لیے نہایت قیمتی دستاویز ہے جس کی حفاظت محترم چیف صاحب ہم سب کا اولین فریضہ ہے۔
(جاری ہے)