جمہوری نظام کی آلودگی، موروثی سیاست! 

110

نامور صحافی مظہر عباس نے اپنے حالیہ کالم میں سوال اٹھایا ہے کہ ’’کیا مورثی سیاست زوال پزیر ہے؟‘‘۔ مظہر بھائی مجھ سمیت متعدد رپورٹرز کے لیے قابل احترام ہیں، اس لیے ان کی تحریر پر کسی قسم کے ردعمل کا اظہار آداب کے خلاف سمجھتا ہوں مگر ملک کی سیاست پر بات ہو تو بحیثیت صحافی خاموش رہنا بھی مشکل ہے۔ میرا خیال ہے کہ کسی بھی ملک کے لیے مورثی سیاست کسی طور پر سیاست نہیں ہے بلکہ یہ ایک زبردستی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ برصغیر و ایشیا میں اس سیاست کے بانی انگریز ہیں جنہوں نے اپنے مفادات کے لیے ’’شخصیات‘‘ کی مالی مدد کرکے ان کی حیثیت کو ترقی دی۔ جس کے نتیجے میں غلام اذہان کے لوگ آگے بڑھتے گئے اور سیاست کے حقیقی و بنیادی مقاصد اور معنی نہ جاننے کے باوجود ’’سیاست دان‘‘ بن بیٹھے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں مورثی سیاست دان چھا گئے۔ ملک کی 70 سالہ تاریخ میں اگرچہ سیاست دانوں کی دوسری اور تیسری نسل اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے لگی ہے لیکن ان میں بلاول زرداری تو خود ایسے سیاست دان ہیں جو نا چاہتے ہوئے اور اپنی خواہش کے خلاف سیاست میں آگئے۔ جبکہ نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز نے بھی قبل از وقت صرف اس لیے سیاست کو گلے لگایا کہ ان کے پاس اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے اس سے زیادہ آسان راستہ کوئی بھی تو نہیں تھا۔
سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے والد سر شاہنواز بھٹو سندھ میں انگریز دور میں سیاست میں آئے تھے یہی وجہ تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو بھی امریکا سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد جنرل ایوب خان کی قربت حاصل کرکے سیاست دانوں میں شامل ہوئے۔ لیکن میاں محمد نواز شریف کے والد کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا وہ تاجر تھے اس کے باوجود ان کے دو بیٹے نواز شریف اور شہباز شریف ملک کے صف اول کے سیاست دان بن گئے۔ یقیناًان دونوں کو تجارت سے زیادہ سیاست کو اپنانے میں زیادہ کشش نظر آئی ہوگی تب ہی انہوں نے سیاست کو پیشہ بنایا بلکہ اپنی سیاسی جماعت بھی قائم کی۔ جبکہ دوسری طرف بے نظیر بھٹو اپنے والد کی پھانسی کی سزا کے بعد پارٹی کی قیادت سنبھال کر سیاست میں آئیں اب ان کے صاحبزادے بلاول زرداری پہلی بار 2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کا انتخاب بحیثیت پیپلز پارٹی کے سربراہ لڑکر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پارلیمانی سیاست دان بھی بن گئے۔ بلاول کے والد آصف علی زرداری اپنے والد حاکم علی زرداری کے سیاست میں رہنے کے باوجود سیاسی طور پر عملی زندگی میں نہیں اس کے تھے لیکن بے نظیر بھٹو سے شادی کے بعد وہ ملک کی ’’چمپئن سیاسی شخصیت کے روپ میں سامنے آئے‘‘۔ لیکن مذکورہ تمام سیاست دانوں کی مورثی سیاست سے ملک کو کوئی ایسا فائدہ نہیں پہنچ سکا جس سے اس کا نام ’’بہترین ممالک‘‘ میں شامل ہوسکے۔ یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ سیاست دانوں کی اولادوں کی سیاست سے ملک مجموعی طور پر ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف بڑھا ہے۔ کیونکہ بحیثیت ملک، پاکستان کی ترقی اور کامیابی اسی دور میں ہوئی جب جب ملک میں آمریت رہی۔ ایسی صورتحال میں مورثی سیاست زوال پزیر نہ ہوگی تو کیا ہوگا۔
مورثی سیاست، جمہوری نظام کی آلودگی کا باعث بھی ہے کیونکہ یہ سیاست ایک آمرانہ نظام کے تحت فروغ حاصل کرتی رہی۔ ایسا سیاسی سسٹم جب تک ختم نہ ہو حقیقی جمہوریت بھی ملک میں قائم نہیں ہوسکتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بیش تر ممالک کی طرح ہمارے ملک کے طاقتور عناصر نے اس بار مورثی سیاست دانوں کی جماعتوں سے جان چھڑانے کے لیے مبینہ طور پر ایک نئی جماعت ’’پاکستان تحریک انصاف‘‘ کے حوالے ملک کا نظام کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ویسے تو ملک میں کبھی بھی مذکورہ بااثر قوت کے تعاون کے بغیر کوئی بھی حکومت قائم نہیں ہوسکی اس لیے اس بات پر بحث کی گنجائش بھی نہیں ہے۔ مورثی سیاست چونکہ جمہوری نظام کے زوال کا باعث ہے اس لیے اس کا ٹوٹ جانا ہے بہتر ہے۔ جمہوریت عام لوگوں کی آزادانہ رائے کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی جبکہ مورثی سیاست میں عام لوگوں کی حیثیت اور اہمیت کو دبا کر ایک خاص طبقے کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ اس لیے اب یہ یقین کرلیا چاہیے کہ ’’مورثی سیاست کے زوال پزیر ہونے کی شروعات ہوچکی ہے۔ اگر یقین نہ آئے تو بلاول زرداری، مریم نواز اور حمزہ شہباز کی سیاسی بصیرت اور کردار کو جانچ کر خود ہی فیصلہ کرلیجیے‘‘۔
مثالی جمہوریت کے لیے شخصیات کا پسندیدہ ہونا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والی شخصیات کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ وراثتی سیاست کے خاتمے کے لیے عام ووٹرز کو آزادانہ اور ایماندارانہ رائے دینا بھی لازمی ہوگا۔ انہیں ایسی جماعتوں کے سیاسی کردار پر توجہ دینی چاہیے جو مورثی سیاست سے پاک ہی نہیں بلکہ اس کے خلاف خالص اسلامی جمہوری نظام کے فروغ کے لیے مسلسل جدوجہد کررہی ہیں۔ ایسی پارٹیوں کی تلاش میں سب ہی کے سامنے جماعت اسلامی پاکستان آجائے گی۔