بھارت نے پاکستان سے پسندیدہ تجارتی ملک کا درجہ واپس لے لیا

67

بھارتی فوج پر مقبوضہ کشمیر میں حملے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت کابینہ کے اہم اجلاس میں پاکستان سے ’پسندیدہ تجارتی ملک‘ کا درجہ واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

بھارت نے سابقہ روایت برقرار رکھتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے بغیر حملے کی ذمے داری پاکستان پر عائد کی اور تجارتی سطح پر دیاگیا درجہ واپس لے لیا۔

بھارتی وزیر خزانہ ارُن جیٹلی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ مودی کابینہ نے پاکستان کوعالمی برادری میں مکمل سفارتی تنہائی کا شکار کرنے کے لیے یہ اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا اور ہم پاکستان کو دیے گئے ’پسندیدہ قوم‘ کے درجے سے دستبردار ہو گئے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس اس بات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کے اس واقعے میں پاکستان براہ راست ملوث ہے۔

دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حملے کے ذمے داران کو سبق سکھانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں دہشت گروپوں اور ان کے ماسٹرز کو کہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے بڑی غلطی کی ہے۔ انہیں اس کی بھاری قیمت چکانی ہو گی۔

انہوں نے ہرزہ سرائی کی کہ اگر پڑوسی ملک یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس طرح کی حرکتوں اور سازشوں سے ہمارے ملک کو غیرمستحکم کر لے گا تو وہ یہ خواب دیکھنا چھوڑ دے۔

مزید برآں مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس کا ذمے قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اب کشمیر کی تحریک آزادی میں بھارت کے اپنے جوان بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملے آج سے نہیں ہو رہے اور یہ آخری حملہ بھی نہیں ہے بلکہ اس مسئلے کے حل کے لیے کشمیری عوام سے بات کرنا ہو گی کیونکہ فوج اور طاقت کے استعمال سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔