سندھ ہائی کورٹ ۔۔۔اُمید کی ایک کرن!

119

علی اختر
بلوچ
عدالت عظمیٰ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 26 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔ اس سے پہلے 2سال تک چیف جسٹس آف پاکستان رہنے والے ثاقب نثار نے کرپشن، دوہری شہریت، پاناما لیکس، اسپتالوں کی حالت زار، بیرون ملک پاکستانیوں کے بینک اکاوئنٹس، جائیدادیں، بڑھتی ہوئی آبادی، پینے کے پانی کی قلت سمیت 29 از خود نوٹس اور مقدمات نمٹائے، مگر بابا رحمتے کی اصطلاح استعمال کرنے والے نے ملکی صنعتی اداروں میں وہ ڈھائی کروڑ سے زائد محنت کش طبقہ جو نہ صرف ہمارے معاشی نظام میں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کے مقدمات کو ترجیح ہی نہیں دی۔ جس سے انصاف کے تقاضے پورے نظر نہیں آتے۔
ملک بھر کی ٹریڈ یونینز اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی قیادت کی طرف سے وفاقی و صوبائی محکموں سمیت پبلک و پرائیویٹ سیکٹرز میں کام کرنے والے ڈیلی ویجز و کنٹریکٹ ورکرز کے روزگار کو مستقل کرنے اوربنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میںآئینی درخواست داخل کردی گئی ہے۔ ہائی کورٹ میں داخل کردہ آئینی پٹیشن میں موقف پیش کیا گیا ہے کہ ڈیلی ویجز و کنٹریکٹ بھرتی کے ذریعے محنت کشوں کا ملکی سطح پر بڑے پیمانے پر استحصال کیا جا رہا ہے۔ انجمن سازی سے محروم کیا جا رہا ہے، کم سے کم اجرت سے غیرہنرمند ورکرز تو ایک طرف ہنرمند محنت کشوں کو بھی جائز حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ آئی ایل او کنونشن کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور یورپی یونین کے ساتھ کیے گئے جی ایس پی پلس کے معاہدے کی خلاف ورزی کرکے ملک کو بین الاقوامی سطح پر رسوا کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے یورپین یونین سے GSP کی سہولت حاصل کی ہوئی ہے، جس کے تحت 8 لیبر معیارات اور 7 انسانی حقوق سے متعلق کنوینشنز پر عمل در آمد کرنا ہے۔ ڈیلی ویجز اینڈ کنٹریکٹ ورکرز ایکشن کمیٹی پاکستان مشین ٹول فیکٹری کراچی کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست داخل کرنے پر ملک بھر کی ٹریڈ یونینز اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی قیادت کے بے حد مشکور ہیں۔ اس آئینی درخواست کے داخل ہونے سے اب ملک بھر کے ڈھائی کروڑ سے زائد نچلے گریڈز کے محنت کشوں کی جدوجہدآخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس سے پہلے وطن دوست مزدور فیڈریشن کے تعاون سے طویل عدالتی جدوجہد کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کا کنٹریکٹ لیبر پر تاریخی تفصیلی فیصلہ بھی موجود ہے۔ اس فیصلے میں قرار دیا کہ کنٹریکٹ لیبر کو بھی وہی مراعات اور سہولتیں ملیں گی جو مستقل مزدوروں کو ملتی ہیں۔ ٹھیکیدار کے ملازم بھی ادارے ہی کے مفاد میں کام کرتے ہیں، اس لیے وہ کمپنی کے ملازم ہیں۔ اس نوعیت کا سپریم کورٹ کاپاکستان اسٹیٹ آئل کے مشہور زمانہ مقدمے میں بھی ملازمین کو ریگولرائیز کرنے، پنشن اور دیگر مراعات جوائننگ کی تاریخ سے دینے کا حکم دیا ہے۔ اس تاریخ ساز فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تمام ورکرزمستقل کام کو آؤٹ سورس کرنا ملازم کے ساتھ دھوکا ہے۔ اس قسم کے مقدمات جہاں ملازمت یا کام سورس کیا گیا، پٹیشنرز نے خود ہی ملازمت ریگولرائیز کردی۔ اس فیصلہ پر ریمارکس دیتے ہوئے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ بدقسمتی سے سرکاری بڑے ادارے اور کمپنیاں محنت کشوں کو مستقل نہیں کرتیں، مزدور اپنی گولڈن ایج ادارے کو وقف کردے اور ادارہ اون نہ کرے یہ بہت دُکھ کی بات ہے۔ داؤد کاٹن ملز، فوجی فرٹیلائیزر، نیشنل ہائی وے، نیشنل بینک، پی ٹی سی ایل جیسے کئی تاریخی فیصلے سپریم کورٹ دے چکی ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ اگر کسی قانونی نقطے کا تصفیہ کر دے تو پاکستان کی تمام عدالتیں اس قانونی نقطے پرسپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عملدرآمد کے پابند ہیں۔ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈیلی ویجز ملازمین کی مستقلی سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے بھی اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کہا ہے کہ وہ تمام ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین جنہیں جوائننگ نہیں دی گئی، متعلقہ وزارتیں اور ڈویژنز 90 دن کے اندر ان کے پوسٹنگ آرڈرز جاری کریں۔ ان کی ملازمت ان کے نوٹیفیکیشن کے جاری ہونے کے وقت سے مستقل تصور ہوگی یا جن جن اداروں میں بورڈ آف ڈائریکٹرز ہیں وہ ایک کمیشن بنائیں۔ کمیشن کا اختیار ہوگا کہ وہ ان کا ٹیسٹ/ انٹرویو لے یا ان کی اہلیت اور فٹنیس کے متعلق ڈائریکٹ اپنی رائے دے دے۔ وفاقی حکومت اس رائے کے مطابق انہیں مستقل کر دے گی۔ اس پراسیس کے مکمل ہونے تک گورنمنٹ ان ملازمین کو نکال نہیں سکتی۔ یہ پورا عمل چھ ماہ کے اندر پورا ہونا چاہیے۔ یہ صرف ایک وقت کے لیے پراسیس ہے، مستقبل میں کسی کو ملازمت میں مستقل کرنے کے لیے ایسا نہیں ہو سکتا۔ اس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیبنٹ کمیٹی سے منظور شدہ 2008،2011 اور2017کی ریگولرائزنگ پالیسی کے تحت مستقل ہونے والے ایک لاکھ بیس ہزار ملازمین کو فارغ کریں یا باقی رہ جانے والے ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کریں اور امتیازی سلوک ختم کریں۔ وفاقی سرکار نے من پسند لوگوں کو مستقل کردیا جو باقی رہ گئے ہیں، ان کو عدالت کے کندھے استعمال کر کے فارغ کرنا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ بھی ریگولرائیزیشن پالیسیز کو قانونی قرار دے کر اہم فیصلے دے چکی ہے۔ اب وزیراعظم پاکستان عمران احمد خان نیازی ان عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ پاکستان مشین ٹول فیکٹری کراچی سمیت عرصہ دراز سے مستقلی کے انتظار میں تمام وفاقی سرکاری محکموں میں 30،30 سالوں سے کام کرنے والے ڈیلی ویجز ملازمین کو ریگولرائیز کیا جائے۔ ڈیلی ویجز ملازمین کی اکثریت کم تنخواہوں کے باعث عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانہ بھی نا ممکن ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ اپنی شکایات کے ازالہ کیے بغیر ہی ریٹائر ہوجاتے ہیں، جس سے فراہمی انصاف کوشدید دھچکا پہنچتا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا مستقلی کے حوالے سے جاری کردہ ایک فیصلے میں کہا ہے کہ وہ ملازمین جو مقدمات پر رقم صرف کرنابرداشت کر سکتے ہیں اور آئین کے آرٹیکل 199 کی حدود و قیود سے نبرد آزما ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں، انہیں طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، جب کہ عدالتوں کو باقاعدہ مقدمات کی سماعت کے لیے اور ان درخواستوں پر فیصلے دینے کے لیے وقت نکالنا مشکل ہوجاتا ہے، جو کہ ان کی ترجیحات کی فہرست میں بہت نیچے ہوتے ہیں۔ مشکلات میں جکڑا ہوا ایسا ملازم حقیقی طور پراس مقدر کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ یہ استحصال کی ایک صورت ہے، جبکہ ریاست آئین کے طابع ہونے کے باعث اس کے آرٹیکل3 کے تحت اس استحصال کے خاتمے کی ذمہ دار ہے۔ یہ ایک جبری مشقت کی شکل بھی اختیار کر چکی ہے اور غلامی آئین کے آرٹیکل 11 کے تحت ممنوع ہے۔ملازمین کے ساتھ ایسا رویہ ریاست ، اس کے ہر ادارے اور اتھارٹی اور ہر اس شخص پر جوکہ کسی ادارے یا ریاست کی اتھارٹی کی جگہ فرائض سرانجام دے رہا ہوں، اس پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں اور فرائض کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انصاف تک رسائی کے حق کا قانون غیر مبہم طور پر صحیح ہے۔ یہ آئین کے آرٹیکل 9 میں دیے گئے زندہ رہنے کے حق کی طرح لازم و ملزوم ہے اور 18 ویں ترمیم کے بعدآرٹیکل A-10 بھی شفاف مقدمے اور مناسب طریقہ اپنائے جانے کی ضمانت دیتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں داخل پٹیشن سے اُمید کی کرن جاگ اُٹھی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں داخل اپیل سے ملک کے تمام ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ورکرز اُمید کرتے ہیں کہ انصاف کے تقاضے ضرور پورے ہوں گے۔