برعظیم کی تحریکات اور جدوجہد آزادی (باب دوم)

75

محمود عالم صدیقی

جنگ کے بعد مسلمانوں کے حالات
۱۸۵۷ء کی جنگ ہندوستانی مسلمانوں کی قومی زندگی کے لیے ایک سانحۂ عظیم ثابت ہوئی جس نے بالآخر مسلمانوں کو ہر شعبہ زندگی میں تباہی و پس ماندگی سے دوچار کردیا۔ ہر میدان میں مسلمانوں کی بالادستی ختم ہوگئی اور وہ انگریزوں کے رحم و کرم کے محتاج ہوگئے۔ ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی طرح طرح کے مسائل میں مبتلا ہوگئی اور انگریزوں کے معاندانہ روئیے نے انہیں مزید پس ماندگی میں دھکیل دیا۔ زندگی کے ہر شعبے میں انگریزوں نے مسلمانوں کے مفادات کو تباہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کی۔
تجارت اور صنعت میں مسلمانوں کو پس ماندہ کرنے کے لیے انہیں ہر قسم کے مراعات اور سہولتوں سے محروم کردیا گیا۔ وہ زمانہ ختم ہوگیا جب تجارتی حکمت عملی کا مقصد قومی مفادات کو فروغ دینا ہوتا تھا اور مسلمان تاجر ہندوستانی مصنوعات کا بیرونی ممالک کی مصنوعات سے تبادلہ کرلیتے تھے۔ انگریزوں نے اس بین الاقوامی تجارت کو ختم کردیا اس طرح تمام پیشے اور باعزت زندگی گزارنے کے تمام وسائل کو مسلمانوں کی پہنچ سے باہرکردیا گیا۔ مسلمانوں پر ملازمتوں کے دروازے اور دوسرے مواقع بند کردیے گئے۔ ان کی اکثریت ناخواندہ اور جاہل بن گئی اور جو تھوڑے بہت پڑھے لکھے مسلمان تھے انہیں صرف کلرکوں کی حیثیت سے خدمات پر مامور کیا گیا۔ اس طرح وہ معاشی طور پر مکمل تباہی سے دوچار ہوگئے۔
تعلیمی حالات
انگریز حکمرانوں نے مسلمانوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی ہر امکانی کوشش پر عمل کیا۔ جیسے ہی ہندوستان میں انگریزی حکومت قائم ہوئی انگریزوں نے برعظیم میں رائج تعلیمی نظام کو ختم کرکے اس کی جگہ ایک نئی پالیسی اور ایک نیا نظام متعارف کروایا۔ انہوں نے درس گاہوں سے عربی اور فارسی تعلیم کو یکسر ختم کردیا جس کا بنیادی مقصد اسلامی تعلیمات کو ختم کرنا تھا اس وجہ سے مسلمان انگریزی نظام تعلیم کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے کیوں کہ وہ قطعی طور پر غیر اسلامی نوعیت کا تھا۔
معاشرتی حالات
مسلمانوں کو تمام سماجی حلقوں سے بیدخل کردیا گیا پھر بدلتے ہوئے حالات میں ہندوؤں نے بھی مسلمانوں کو اہمیت دینی بند کردی۔ مسلمان جن پر جدید تعلیم کے دروازے بند کردیے گئے تھے وہ سیاسی طور پر تباہ ہوئے اور معاشرتی طور پر دیوالیہ ہوگئے۔ وہ دو وقت کی روٹی کے لیے بھی محتاج ہوگئے جبکہ مسلمانوں نے تقریباً آٹھ سو سال ہندوستان پر حکومت کی جس کے دوران وہ ہندوؤں کے مذہب‘ روایات اور ثقافتی اقدار کو تحفظ فراہم کرتے رہے وہ عقیدہ مساوات پر عمل پیرا رہے۔ مسلمان حکمرانوں نے کبھی ہندوؤں کو ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا لیکن بدلے ہوئے حالات میں ہندو، مسلمانوں کو ان کا معاشرے میں جائز مقام دینے سے انکاری تھے۔
یہ وہ حالات تھے جس میں مسلمان قائدین نے مسلمانوں کو ان کی عظمتِ رفتہ کی تجدید کے لیے اکسانا شروع کردیا اور مسلم نشاۃ ثانیہ کی تحریک کی ابتداء ہوئی۔
غفلت کے سنگین نتائج
ماسوائے دو یا تین مسلمان حکمرانوں کے‘ اکثر مسلمان حکمرانوں نے اپنے دور حکمرانی میں غیر مسلم آبادی میں اشاعت اسلام سے صدیوں غفلت برتی۔ وہ لوگوں سے اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بجائے اپنی اطاعت کرواتے‘ بیاج وصول کرتے اور اپنی مملکتوں میں توسیع کے لیے اپنی قوتیں صرف کرتے۔ اس غفلت کے سنگین نتیجے کا پہلا اظہار اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں شیواجی مرہٹہ (۱۶۲۷۔ ۱۶۸۰) کی بغاوت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ بظاہر یہ ایک علاقائی بغاوت تھی جس سے اسی مفروضے پر نمٹا گیا‘ لیکن جدید دور کے ہندو مورخین اسے ہندو قوم پرستی کا بانی اور ہندو قوم کا ہیرو قرار دیتے ہیں۔ اورنگ زیب کی آنکھیں بند ہوتے ہی سلطنت مغلیہ تیزی سے زوال پزیر ہوئی اور ہندو قوم پرستی کی لہرابھر کر سامنے آگئی دیکھتے ہی دیکھتے یہ لہر جنوبی اور وسطی ہند میں ایک تحریک کی شکل اختیار کرگئی۔ ایک وقت تو ایسا آیا کہ مرہٹے ہندوستان کے مستقبل کی تقدیر بنتے نظرآنے لگے۔ تاہم احمد شاہ ابدالی نے ہوا کے رُخ کوبدلا اورپانی پت کے میدان میں ہندوؤں کی یہ ابھرتی ہوئی قوت کچل دی گئی۔