افضل گوروکی برسی پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال،کل لال چوک کی جانب مارچ کا اعلان

121
سری نگر :افضل گورو کی برسی پر لال چوک جانے والے راستے کو بھارتی فوج نے بند کر رکھاہے
سری نگر :افضل گورو کی برسی پر لال چوک جانے والے راستے کو بھارتی فوج نے بند کر رکھاہے

سرینگر(صباح نیوز)مقبوضہ کشمیر میں کشمیری رہنما محمد افضل گورو کی شہادت کی چھٹی برسی پرمکمل ہڑتال کے باعث ہفتے کو نظام زندگی مفلوج رہا،بھار ت نے محمدافضل گورو کو 2013ء میں 9فروری کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی تھی۔ہڑتال کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی تھی جس کا مقصد شہیدرہنما کی برسی پر انہیں یاد کرنا اورمحمد افضل گورو اور ممتاز کشمیری رہنما محمد مقبول بٹ کی میتوں کو اسلامی اقدار کے مطابق تدفین کے لیے نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے مقبوضہ کشمیر منتقل کرنے کے کشمیریوں کے مطالبے پر زور دیناتھا،تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل تھی۔ مشترکہ حریت قیادت نے محمد مقبول بٹ کی شہادت کی برسی پر پیر کو بھی مقبوضہ علاقے میں ہڑتال اور لالچوک سرینگر کی طرف مارچ کی کال دی ہے۔محمد مقبول بٹ کو 11فروری1984ء کو جد وجہدآزادی میں ان کے کردار کی پاداش میں نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں پھانسی دے کر ان کی میت کو جیل کے احاطے میں ہی دفن کر دیا تھا۔قابض انتظامیہ نے لوگوں کو محمد افضل گورو کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ان کے گھر جانے سے روکنے کی غرض سے سوپور، بارہمولہ او ر سرینگر میں ہفتے کو پابندیاں نافذ کر دیں اور بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے ۔ انتظامیہ نے حریت رہنماں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد اشرف صحرائی ، محمد یاسین ملک، ہلال احمد وار، جاوید احمد میر، مختار احمد وازہ ، ، ظفر اکبر بٹ ، نور محمد کلوال ،شوکت بخشی ،محمد اشرف لایا، امتیاز حید ر اور محمد سلیم ننھاجی کو شہید رہنماوں کی برسیوں پر بھارت مخالف مظاہروں کی قیادت سے روکنے کے لیے گھروں اور تھانوں میں نظر بند کر دیا ہے۔ انتظامیہ نے مقبوضہ وادی میں ریل سروس بھی معطل کر دی ہے۔حریت رہنماوں اور کارکنوں سمیت بڑی تعدادمیں لوگ سخت پابندیوں کے باوجود تارزو سوپور گئے اور جموں وکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے زیر اہتمام تعزیتی اجلاس میں شرکت کی۔