جرمنی نے داعش کی شکست کا امریکی دعویٰ جھٹلا دیا

84
برلن: جرمن چانسلر انجیلا مرکل دنیا کے سب سے بڑے انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہی ہی
برلن: جرمن چانسلر انجیلا مرکل دنیا کے سب سے بڑے انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہی ہی

 

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے شدت پسند تنظیم داعش کو شکست دینے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا۔ مرکل کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجوؤں کو شام اور عراق میں منتشر ضرور کیا گیا ہے، مگر تنظیم کو شکست نہیں دی جا سکی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق جرمن چانسلر نے کہا ہے کہ شام سے علاقے کھو دینے کے بعد داعش ایک غیر منظم جنگجو تنظیم میں تبدیل ہوچکی ہے۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے ان خیالات کا اظہار برلن میں بیرون ملک انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹر کے افتتاح کے موقع پر خطاب میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے سے انہیں اتفاق نہیں، جس میں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ داعش کو شکست دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ شام میں داعش کو زیادہ علاقوں سے بے دخل کردیا گیا ہے، مگر یہ امر باعث افسوس ہے کہ داعش اب ایک غیر منظم تنظیم ہے جو اب بھی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں شام سے امریکی فوج کے انخلا کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام میں داعش کے خلاف جاری مشن اب مکمل ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں موجود امریکی فوج کو اپریل کے آخر تک واپس بلالیا جائے گا۔ جرمن چانسلر نے شام میں قیام امن کے حوالے سے کہا کہ شام میں دیر پا امن کے قیام کا سفر ابھی لمبا ہے اور امن کی منزل اتنی جلدی نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ 2015ء میں سرحدیں کھولنے کے بعد ساڑھے 5 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو جرمنی میں پناہ دی گئی۔