وفاق سے فنڈز نہ ملنے پر ترقیاتی بجٹ متاثر ہورہا ہے صوبے کو حصے کی گیس دی جائے،وزیراعلیٰ سندھ

50
کراچی: وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں
کراچی: وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں گیس کے بحران نے صوبے کے عوام کی زندگی اذیت میں مبتلا کردی ہے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ گھریلو صارفین کو بھی گیس نہیں مل رہی حالانکہ آئین کے مطابق سندھ کواسکے حصے کی گیس ملنی چاہیے۔جمعہ کو سندھ اسمبلی میں گیس بحران پر سندھ حکومت کے موقف پر پالیسی بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو خط لکھاتھا کہ سندھ کو اسکاحصہ دیاجائے۔ایم ڈی سوئی سدرن گیس سے رابطہ کیا ہے۔،ایم۔ڈی نے کہاکہ وفاق گیس نہیں دے رہا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پہلے خط کاجواب نہیں دیاآج دوبارہ خط لکھ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ گیس پرپہلاحق سندھ کا ہے ہمیں آئینی حق دیاجائے ،ہم کوئی رعایت نہیں مانگ رہے۔وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ نے کہا کہ ہمیں قابل تقسیم محاصل سے اس سال 10ارب روپے گزشتہ سال سے کم ملے ،وفاقی حکومت نے کہاکہ ہماری آمدن ساڑھے چارفیصد زیادہ ہے توپھربتایاجائے کہ پیسے کہاں گئے۔انہوں نے کہا کہ وفاق سے فنڈز نہ ملنے پر ہمارا ترقیاتی بجٹ متاثرہورہاہے۔تاریخ میں پہلی مرتبہ فنڈز اتنا کم مل رہاہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ کچھ دنوں میں ہوسکتاہے کہ کچھ اقدامات لینا پڑیں قبل ازیں سندھ اسمبلی میں جمعہ کو میر پور خاص میں گیس پریشر میں بہت زیادہ کمی اور ایم ایم اے کے رکن عبدالرشید کی جانب سے کراچی میں انسداد تجاوزات مہم کے دوران عدالتی احکامات کو نظر انداز کرنے سے متعلق دو الگ الگ تحاریک التوا پر بحث ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے سندھ میں گیس کے بحران پر وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ بات اس پر ہونی چاہیے کہ گیس پریشر کم کیسے ہو ا۔انہوں نے کہ یہ سندھ کا اہم مسئلہ ہے اور ہم وزیر پیٹرولیم سے کہیں گے کہ وہ اس ایوان کو بتائیں کہ ہمارے صوبے کو گیس کیوں نہیں ملتی ،صوبے کا پہلاحق ہے تو پہلے ان کو کیوں نہیں ملتی۔ وزیر توانائی امتیاز شیخ نے کہا کہ وفاقی حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ سندھ میں آج کوئی گھر ایسا نہیں جہاں گیس ہو۔انہوں نے کہا کہ زمین میں گیس موجود ہے مگر آپ میں نہ بصیرت ہے نہ صلاحیت کہ مسئلہ حل کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ اگرگیس نہیں نکل رہی ہے تو بی بی کو کہیں کہ کوئی تعویذ دیں شاید گیس مل جائے۔ جی ڈی اے کے عارف جتوئی نے کہا کہ اچھی بات ہے کہ اس مسئلے کو حکومت نے محسوس کیا۔جب جمہوریت کی بات کی جائے اور مسئلہ حل نہیں ہو،جب سی سی آئی میں بات ہو اور مسئلہ حل نہ ہوتو ایوان میں اپوزیشن کو بھی ساتھ لیا جائے۔ پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں بات اور بائیکاٹ کیوں نہیں کرتی؟۔ ایم ایم اے کے عبدالرشید نے اپنی تحریک التوا پر کہا کہ تبدیل ہونے والی حکومت سے عوام نے بڑِی توقعات وابستہ کیں لیکن افسوس کہ تین ماہ کے کے دوران تجاوزات کیخلاف آپریشن سے دولاکھ لوگ بیروزگار ہوئے یہ تاثرہے کہ مہاجروں نے پٹھانوں کی دکانیں گرادیں۔انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں کہیں نہیں لکھاکہ مساجد ودکانوں کوگرادو۔بیس سال میں تجاوزات کس کی حکومت کس کی سرپرستی میں قائم ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے لوگ لاوارث ہیں کوئی مرہم رکھنا چاہتا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی بڑی مشکل سے ٹریک پر آیا ہے دوبارہ یہاں بے امنی پھیلانے والے کام نہ کیے جائیں۔تین ماہ۔ہوگئے تجاوزات کاملبہ اٹھانے کی کسی کوزحمت نہیں ہوئی۔ایم کیو ایم کے محمد حسین نے کہا کہ کچھ لوگوں کی کوشش یہ ہے کہ سارے معاملے کا ملبہ میئر پر پڑے اور ظاھر کیا جائے کہ کسی طبقہ یا اس پارٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے میئر وابستہ ہیں۔وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ عدالتی احکام پر عمل کیا گیا آرڈر ہوچکا ہے۔، سپریم کورٹ کے حکم پر بات نہیں کی جاسکتی۔ بعدازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا۔