طلبہ یونینز اور جمعیت

138

پروفیسر میرب اسرار

کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کا پرچار کرنے والی اسلامی جمعیت طلبہ کی تاریخ کا درخشاں باب طلبہ یونیز کے دور میں روشن ہوا۔ جمعیت ایک تاریخ ساز تنظیم بن پر ابھری جس نے طلبہ کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے ترقی پسند اقدمات اٹھائے۔ طلبہ یونین کے دور میں جمعیت نے تعلیمی اداروں میں ترقی پسند، جمہوری، اسلامی اور ساز گار ماحول فراہم کیا طلبہ کے اندر سماجی، تاریخی، معاشی، عالمی اور سیاسی شعور بیدار کیا۔ طلبہ کو شخصی آزدی اظہار رائے دی کسی فرد کے اختلافی نقطہ نظر کو دبانے یا نظر انداز کرنے کی بجائے اسے باہم اتفاق رائے سے متفق کرنے یا سلجھانے کی کوشش کی جمعیت نے اسلامی پوائنٹ پر طلبہ کی کردار سازی کی اور ملک و قوم کی خدمات کے لیے پاک نفوس پیدا کیے اور ہمیشہ جبر، آمریت اور بربریت کے خلاف کھڑی رہی لیکن جمعیت کے ان احسانوں کا بدلہ اسے ظلم ہی کی شکل میں دیا گیا1977 میں مارشل لا کے نفاد کے بعد ملک میں بدترین ریاستی جبر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی طلبہ یونین نے ضیاء آمریت کے خلاف جرت مندانہ جنگ لڑی جسے پہلے ریاستی جبر کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی گئی بعد ازاں ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد ضیاء حکومت نے اکتوبر 1979ء میں پورے ملک میں طلبہ یونینز پر پابندی لگا دی اسے حتمی اور باضابطہ شکل دینے کیلیے 9 فروری 1984ء کو مارشل لا آرڈر نمبر 1371 کے تحت پنجاب اور مارشل لا آرڈر نمبر 227 کے تحت سندھ بھر میں طلبہ یونین پر پابندی لگا دی گئی اس کا مقصد طلبہ کی آواز کو دبانا اور غیر نظریاتی سیاست کو فروغ دینا تھااسی دوران طلبہ یونین پر بدترین تشدد اور جبر روا رکھا گیا مختلف شہروں میں ہنگامہ آ رائی کے دوران جمعیت کے 65 کے قریب اسٹوڈنٹس کو شہید کیا گیا ان کے ناخن کھنچے گئے لاشوں کی بیحرمتی کی گئی اس کے باوجود ضیاء آمریت جمعیت کے اسلامی تشخص کو مٹا نہ سکی جمعیت آج بھی ایک تناور درخت کی صورت میں موجود ہے جمعیت آج بھی طلبہ کو اپنی زبان اور اپنے عمل سے حق و صداقت کا سیدھا راستہ دکھا رہی ہے۔ جمعیت نے بیشمار الجھے ہوئے ذہنوں کو صاف کیا اور کتنے ہی شک وفریب کے مارے ہوؤں کو دولت ایمان و یقین سے مالا مال کیا۔ جمعیت کے پیغام سے بیرخی تو برتی جاسکتی ہے مگر اس کی صداقت اور کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جمعیت کے مخالف بھی اس کی تعریفوں کے گن گاتے نظر آتے ہیں۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی 9 فروری کو اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان اپنے تشخص کو برقرار رکھنے کیلیے طلبہ یوننیر کی بحالی کے ایجنڈے کی قیادت کررہی ہے۔جمعیت نے ہر سال کی منصوبہ بندی ایجنڈے اور مہم میں طلبہ یونین کی بحالی کو اپنے اہداف میں شامل رکھا اپنے مقصد کے حصول کیلیے جمعیت ہر سال طلبہ کنونشن کا انعقاد کرتی ہے اور تعلیمی ریفرنڈم کے ذریعے طلبہ یونین کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے
مگر ضیاء آمریت کا یہ غیر آئینی تسلسل آج تک طلبہ پر جبراََ مسلط ہے۔
آمریت دور کے بعد کئی بار جمہوری حکومتوں کو اقتدار سنبھالنے کا موقع ملا مگر طلبہ یونین پر غیر آئینی پابندی آج تک ختم نہیں ہوئی۔