خاشق جی قتل ،تحقیقات میں سعودی عرب پر سنگین الزامات 

108
استنبول: سعودی صحافی جمال خاشق جی کی منگیتر خدیجہ مقتول سے متعلق اپنی کتاب کی تقریب رونمائی میں شریک ہیں
استنبول: سعودی صحافی جمال خاشق جی کی منگیتر خدیجہ مقتول سے متعلق اپنی کتاب کی تقریب رونمائی میں شریک ہیں

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے صحافی جمال خاشق جی کے قتل کی تحقیقات کرنے کی ترکی کی صلاحیت کو کم اور کمزور کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ جمال خاشق جی قتل کی ابتدائی رپورٹ کا کہنا ہے کہ ترکی کو استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے جہاں سعودی صحافی کو قتل کیا گیا، 13 دن تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ قتل کی بین الاقوامی تحقیقات کی قیادت کرنے والی اقوام متحدہ کی نمایند ہ خصوصی اجنس کالمارڈ نے 28 جنوری سے 3 فروری کے درمیان ترکی کا دورہ کیا۔ جمال خاشق جی قتل کی تحقیقات کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق خاشق جی سعودی حکام کے ظالمانہ، پیش بندی اور طے شدہ منصوبے کا شکار ہوئے۔ اجنس کالمارڈ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اگرچہ جمال خاشق جی کا قتل 2 اکتوبر کو ہوا، تاہم حکام کو سفارت خانے تک 15 اکتوبر کو رسائی دی گئی، جب کہ سفارت کار کی رہایش تک 17 اکتوبر تک رسائی نہیں دی گئی، جس نے خاص طور پر فورنسک تحقیقات کو متاثر کیا۔ اجنس کالمارڈ نے جمال خاشق جی قتل کے ذمے دار 11 مشتبہ افراد کے مقدمے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کی شفافیت پر بڑے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہمیں نے سعودی عرب کا سرکاری دورہ کرنے کی درخواست کی ہے، تاکہ وہاں کے حکام مجھے براہِ راست متعلقہ ثبوت فراہم کر سکیں۔ رپورٹ کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ جمال خاشق جی کی لاش ابھی تک نہیں ملی، جس سے ان کے پیاروں کی تکالیف میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ جمال خاشق جی قتل کی حتمی رپورٹ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ادارے کو رواں برس جون میں پیش کی جائے گی۔ یاد رہے کہ خاشق جی کو 2اکتوبر 2018ء کو سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا۔