ڈیل ہورہی ہے نہ این آر او ،وزیراعظم

72
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سول سروس ریفارمز ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سول سروس ریفارمز ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

اسلام آباد( نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے این آر او کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی سے بھی ڈیل نہیں ہورہی ۔وزیر اعظم کی زیر صدارت حکومتی اور پارٹی ترجمانوں کا اجلاس ہوا۔ جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور سابق سینئر وزیر علیم خان کی گرفتاری کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے کی جانے والی تنقید کا بھی جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نے عوام تک حکومتی مؤقف مثبت انداز میں پیش کرنے کی ہدایت بھی کردی۔علاوہ ازیں وزیر اعظم کی زیر صدارت سول سروس ریفارمز ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا۔ جس میں وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ہر تقرر صرف میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے۔اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کا مشن ہے کہ بیورو کریسی کو سیاسی مداخلت سے بچایا جائے، سول سروس کو سیاسی مداخلت سے بچانے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں، ہماری حکومت نیک نیتی کے ساتھ اصلاحات کا ایجنڈا لے کر آئی ہے،اصلاحات کے بعد بیورو کریٹ بلا خوف و خطر اپنی ذمے داریاں انجام دے سکیں گے، سول سرونٹس کو بے جا تنگ کرنے سے کام رک جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر شعبے میں ماہر افراد ہی کام کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم سیکرٹریٹ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم نے پانامالیکس میں شامل 175افراد کی تلاش کا حکم دے دیا ہے۔ذرائع وزیراعظم سیکرٹریٹ کے مطابق پاناما لیکس میں شامل 250سے زائد افراد ٹیکس ایمنسٹی لے چکے ہیں اور پاناما لیکس کی بیشتر کمپنیاں چین منتقل ہوچکی ہیں۔ ذرائع وزیراعظم سیکرٹریٹ کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس میں شامل 175 افراد کو تلاش نہیں کیا جاسکا جب کہ78افراد کی معلومات نا مکمل تھیں جن کی تلاش کے لیے ایجنسیوں کی مدد لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔مزید برآں وزیراعظم کی زیر صدارت نئی نسل کو اسلامی تاریخ سے روشناس کرانے کے لیے بھی اجلاس ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اقبالیات اور اسلامی تاریخ کو نصاب میں شامل کیا جائے اور نئی نسل کو علامہ اقبال کی سوچ سے بھی روشناس کرایا جائے‘ اقبال کا فلسفہ انسان کی سوچ کو آزاد اور تخیل کو بلندی فراہم کرتا ہے، مدینہ کے اصول پر عمل کرکے مسلمانوں نے دنیا کی امامت سنبھالی تھی، معاشی و سماجی تنزلی سے پہلے اخلاقی تباہی واقع ہوتی ہے، مذہب اخلاقیات کا درس دیتا ہے اور کرپشن اخلاقی تباہی کا مظہر ہے ‘ تاریخ اور حقائق سے ناآشنائی مفاد پرست عناصر کو موقع فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض عناصر قبائلی عوام کو اپنے مقاصد کے لییاستعمال کررہے ہیں۔