پاکستان نیٹو سے اپنے معاشی نقصان کے ازالے کا مطالبہ کرے،سراج الحق

131
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق دیر پائیں میں اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق دیر پائیں میں اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں

دیر (نمائندہ خصوصی) امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ امریکا اور نیٹو افواج کی آمد سے پاکستان کو سخت مالی ،جانی اور سماجی نقصان اٹھانا پڑا۔حکومت نیٹو سے اس نقصان کی تلافی کا مطالبہ کرے۔ ہماری سڑکیں تباہ ہوئیں ، ملکی معیشت کا بیڑا غرق ہوا اور ہمارے شہروں اور دیہات تک کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا جس سے ملک کو 120 ارب ڈالر کا معاشی نقصان اور 70ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ افغانستان سے امریکی انخلا سے قبل حکومت کو ان نقصانات کے ازالے کی بات کرنی چاہیے ۔ملک میں احتساب کے نظام کو بااعتماد بنانے کے لیے ضروری ہے کہ افراد کے بجائے ملک کے لیے قانون سازی کی جائے ۔ماضی کے حکمرانوں نے اپوزیشن کو گھیرنے کے لیے جو قوانین بنائے تھے وقت آنے پر وہ قوانین ان کے اپنے گلے پڑگئے ۔موجودہ حالات میں شفاف احتسابی نظام کی ضرورت ہے تاکہ ایک خود کار طریقے سے احتساب کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکے ۔کرپشن فری پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ جن لوگوں نے بھی پاکستان کو لوٹ کر ملک کے اندر اور باہر اثاثوں کے کوہ ہمالیہ بنائے ہیں ان سے لوٹی دولت واپس لی جائے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزمنصورہ لاہور سے جاری اعلامیے کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے دیر پائین میں ارکان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نیٹو اسلحے کے جہازوں کی آمد سے ہماری بحری تجارت کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ،ہماری بڑی شاہراہیں نیٹوکے ہیوی ٹرالوں کے گزرنے سے جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کر تباہ ہوگئیں ، ہمارے 70ہزار سے زائد فوجی اور سویلین لقمہ اجل بن گئے ۔دہشت گردی کے خلاف نام نہاد امریکی جنگ میں شرکت کی وجہ سے ہماری معیشت کا بھٹہ بیٹھ گیا اور ہمیں 120 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ آج جب امریکا اور نیٹو افغانستان سے بھاگ رہے ہیں تو ہمارے حکمرانوں کو ہاتھ پہ ہاتھ دھرے خاموش نہیں بیٹھناچاہیے بلکہ اس تباہی اور بربادی کے اصل ذمے داروں سے اس کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے ۔حکومت نیٹو سے کلیم کرے کہ وہ ہمارا نقصان پورا کرے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نیب قوانین اور طریقہ کار کو بہتر بناکر ہی احتساب پر قوم کے اعتماد کو بحال کیا جاسکتا ہے ۔ اپوزیشن کے اعتراضات دور کرنے کے لیے حکومت ایسی قانون سازی کرے جس سے اپوزیشن کے تحفظا ت دور ہوں اور نظر آئے کہ حکومت کسی سے انتقام نہیں لے رہی بلکہ واقعی احتساب کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نیب کے کئی اقدامات نے احتساب کے اس ادارے کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔متنازع احتساب کی وجہ سے کرپٹ اور بددیانت لوگوں کو بچ نکلنے کا موقع مل جاتا ہے ۔ حکومت کو احتساب کا عمل آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کہ لوٹی گئی قومی دولت کو واپس لایا جاسکے ۔جب تک لوٹی دولت واپس نہیں آتی لٹیروں کی پکڑ دھکڑ سے قوم کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔حکومت ایسا میکنزم بنائے جس سے ناصرف کرپشن کا خاتمہ ہوبلکہ آئندہ کسی کو کرپشن کرنے کی جرأت نہ ہوسکے اور جن لوگوں نے کرپشن سے دولت بنائی ہے اور جن کے اثاثے ان کی آمدن سے زیادہ ہیں انہیں کسی قسم کا ریلیف نہیں ملنا چاہیے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اگر ملک سے لوٹی گئی 375 ارب ڈالر کی رقم قومی خزانے میں آجائے تو حکومت آئی ایم ایف اور ورلڈبینک سے قرضے لینے اور دوست ممالک کے سامنے ادھار اورخیرات کے لیے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے بچ سکتی ہے ۔