وزیر اعظم پاکستان عمران خان 12 فروری کو تھل ایکسپریس کا افتتاح کریں گے۔

143

وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان 12 فروری 2019 کو تھل ایکسپریس کا افتتاح کریں گے۔ یہ ٹرین صبح 7 بجے راولپنڈی سے اور صبح 7 بجے ملتان سے چلے گی۔ براستہ جنڈ ، کندیاں ، لیہ ، بھکر ، میانوالی، کوٹ ادو اور مظفر گڑھ سے ملتان پہنچے گی اور اس کے ساتھ ٹریکر سسٹم ہوگاجس کے ذریعے لوگ گھر بیٹھ کر ٹرین کی پوزیشن دیکھ سکیں گے۔ 

یہ بات وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ریلوے ہیڈکوارٹرز آفس لاہور میں میڈیاسے گفتگوکرتے کہی ۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ میں ریلوے مزدوروں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اتنے کم وقت میں یہ نئی کوچز تیار کرکے دیں اور اس کے علاوہ 30 مارچ 2019 کو پاکستان کی پہلی وی آئی پی ٹرین لاہور سے کراچی جائے گی۔ 

آج ہم نے اس کے کرائے اور کیٹرنگ پر تبادلہ خیال کیاہے لیکن ابھی اسے حتمی مرحلے تک پہنچانا ہے۔ اس کے علاوہ سرسید ایکسپریس اور جناح ایکسپریس ٹرین اس سال کا ہمارا ٹارگٹ ہے۔وفاقی وزیر ریلوے نے اسٹیشنوں کی رینویشن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی، لاہور ، کراچی ، پشاور اور حیدر آباد کے اسٹیشنوں کورینویٹ کیاجائے گا۔

اس کے لیے ہم فنڈ ریلیز کررہے ہیں اور میں خود اس کی مانیٹرنگ کروں گا۔اب تک50، 50 کروڑ کی لاگت سے نارووال اور اوکاڑہ وغیرہ کے جو ریلوے اسٹیشن رینویٹ کیے گئے وہ 6 لاکھ روپے کی بھی آمدن نہیں دے رہے ان میں دو ارب روپے قوم کے تباہ کیے ہیں۔ میں نے تمام اسٹیشنوں کو خود وزٹ کرکے چیک کیاہے۔

اس سے بڑی غلطی کیاہوسکتی ہے کہ جو ہمارے کماؤ پتر ہیں ان پہ واش روم بھی نہیں ہیں ہم دو تین ماہ میں ان کو عوام کے معیار کے مطابق لائیں گے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ پسنجر سیکٹر میں ہم نے دو ارب زیادہ آمدن حاصل کی ہے۔ عدالتوں میں سٹے کی وجہ سے ہمارے لینڈ کے معاملات کچھ پیچھے چلے گئے ہیں میں نے تمام ڈی ایسسز کو اختیارات دیئے ہیں کہ وہ ریلوے زمین کے معاملات بھی دیکھیں۔

فریٹ سیکٹر کے لیے میں کراچی کے آفس شفٹ ہوگیاہوں۔ 30 مارچ 2019 کو وزیر اعظم پاکستان لاہور ریلوے اسٹیشن کی رینویشن کا افتتاح کریں گے اورآپ کو اچھی خبریں سنائیں گے۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ اس سال میں ہم 4 فریٹ ٹرینوں کا اضافہ کریں گے اور8فریٹ ٹرینوں کی تعداد کو 20 تک لے جائیں گے۔ جس دن ریلوے کی 20 فریٹ ٹرینیں ہوگئیں تو یہ ریلوے اپنے پیروں پر کھڑی ہوجائے گی۔ 

ریلوے میں کوئی نقص نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم ایل ون کا انتظار ہے جس کا فیصلہ وزیراعظم پاکستان نے کرنا ہے کراچی سے پشاور تک ڈبل فاسٹ ٹریک بنانا ہے اور اس کے لیے وزیر خزانہ اسد عمر، خسرہ بختیار، شیخ رشید احمد ، منسٹرانڈسٹریز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کی قیادت وزیراعظم پاکستان کریں گے۔ 
مارچ تک قوم کو اچھی خوش خبری دیں گے اس کے علاوہ ٹرینوں کی پنکچوالیٹی کو بہت بہتر کیا ہے اس وقت ہماری پنکچوالیٹی90 فیصد پر ہے۔ بغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں سے چھ کروڑ روپے ایک ہفتے میں ہمیں ملے تھے۔بغیر ٹکٹ سفر کے خلاف مہم سے 73 فیصد بغیر ٹکٹ سفر کرنے والے کم ہوگئے ہیں یہ شکایت نان سٹاپ ٹرینوں میں زیادہ آتی ہے کہ کچھ لوگ چھوٹی کلاس کے ٹکٹ پر بڑی کلاس میں بیٹھ جاتے ہیں۔ 

وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ ہم نے تین ریلوے سکول بند کردئیے ہیں۔ سارے سکول اور ہسپتال ہم پرائیویٹ لوگوں کے ساتھ ٹینڈر کرنے جارہے ہیں جوہمارے مزدوروں کو بہتر میڈیکل سہولیات دے اور ہماری خواہش یہ ہے کہ راولپنڈی کی طرح کوئی میڈیکل کالج ہمارے ہسپتالوں کو لے اس سے ہمیں بہتر آمدنی ہوگی ۔ 

تمام ڈویژنل سپرنٹنڈنٹس کلین اینڈ گرین مہم کو یقینی بنائیں۔ ہماری 20 ٹرینیں 150 کی ایکوپنسی پر چل رہی ہیں ایک میانوالی ایکسپریس کا مسئلہ تھا اس کو ہم تھل تک لے گئے ہیں۔ تھل ایکسپریس تین سے چار گھنٹے کم وقت لے گی یہ ٹرین وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر ان علاقوں میں جارہی ہے جہاں روڈ نیٹ ورک بہتر نہیں ہے اور لوگوں کو بہت زیادہ مشکلات کا سامناہے اور یہ ٹرین عوام کی مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔