پاکستان یورپین یونین میں مطلوبہ ایکسپورٹ کرنے سے قاصر ہے

81

یورپین یونین میں GSPپلس سے خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے کے لئے جی ایس پی ایکسپورٹ اتھارٹی قائم کی جائے۔

پاک جرمنی باہمی تجارت میں اضافہ کا زبردست امکان ہے، حکومت برآمدات میں اضافہ کے لئے اقدامات کرے۔میاں زاہد حسین

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل ایف پی سی سی آئی کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کو یورپی منڈیوں میں جی ایس پی پلس اسٹیٹس حاصل ہونے کے باوجود پاکستان کی باہمی تجارت موجود پوٹینشل سے کہیں کم ہے۔

2016میں یورپین یونین کی زرعی درآمدات 70ارب ڈالر پر مشتمل تھیں جس میں پاکستان کا حصہ محض 2کروڑ ڈالر کے لگ بھگ تھا۔ پلاسٹک اور ربڑ کی 110ارب ڈالر کی درآمدات میں پاکستان 42کروڑ ڈالر کا حصہ دار تھا۔ پاکستان کی کل برآمدات میں کمی کے باوجود GSP+اسٹیٹس کے بعد یورپین یونین میں پاکستانی برآمدات میں 5فیصد تک اضافہ ہوا ہے، تاہم پاکستانی برآمدات میں اضافہ کے لئے ازسر نو اقدامات کی ضرورت ہے۔

میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کے جرمنی کے ساتھ تجارتی و معاشی شعبوں میں دیرینہ تعلقات ہیں تاہم دونوں ملکوں کے مابین باہمی تجارت موجودہ پوٹینشل سے کہیں کم ہے، جس میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ 2017میں پاک جرمنی باہمی تجارت محض تقریباً2.5ارب ڈالر پر مشتمل تھی جس میں برآمدات 1.3ارب ڈالر جبکہ درآمدات 1.1 ارب ڈالر رہیں۔ جرمنی کو برآمدہونے والی اشیاء میں فارماسوٹیکل ، پلاسٹک، ٹیکسٹائل، فٹ وئیر، ائیرکرافٹ اور متعلقہ مصنوعات، لوہا، اسٹیل اور معدنیات شامل ہیں جبکہ جرمنی سے درآمد ہونے والی اشیاء سیلیکون، مشینری، گاڑیوں، کیمیکلزاور دیگر صنعتی مصنوعات پر مشتمل ہیں۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کی آسان سرمایہ کاری پالیسی اور بہتر کاروباری ماحول کے باعث جرمن کمپنیاں رینیوبل انرجی، ٹورازم، ہوٹل انڈسٹری کے علاوہ کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کرسکتی ہیں۔

پاکستان میں ہونے والی گرین فیلڈ انویسٹمنٹ کو پانچ سال تک مشینری درآمد پر ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سے استثنا ء حاصل ہے، جس سے جرمنی سمیت تمام بیرونی سرمایہ کار فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔پاکستان کی معدنیات، قدرتی وانسانی وسائل، سیاحت اور زرعی شعبہ دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستان میں متاثر کن ترقی کے تمام لوازمات موجود ہیں جنھیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پاکستان کے انسانی وسائل اورمعدنیات ملک کو عالمی اقتصادی قوت بنا نے کے لئے کافی ہیں۔ دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان، پانچویں بڑی سونے کی کان، پانچویں بڑے کوئلے کے زخائر، ساتویں بڑے تانبے کے ذخائر پاکستان میں ہیں۔ وسطی ایشیائی ، خلیجی اوروسط ایشیائی ریاستوں مشرق بعید کی تجارت میں پاکستان کو کلیدی حیثیت حاصل ہے ۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ کستان GSPپلس اسٹیٹس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا پارہا، ٹیکسٹائل ، لیدر اور زراعت سمیت دیگر شعبوں میں پاکستانی مصنوعات یورپین یونین کی ذرخیز تجارتی منڈی میں اپنا حصہ بڑھانے میں خطے کے دیگر ممالک سے کہیں پیچھے ہے۔حکومت ٹیکسٹائل، لیدر اور زرعی شعبوں کی ترقی کے لئے کام کرنے والی ٹریڈ ایسوسی ایشنز کی سفارشات پر عمل درآمد کرکے ان شعبوں کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کرسکتی ہے۔ GSP+اسٹیٹس 2023تک برقرار رہے گا، اس دوران حکومت برآمدی صنعتوں کے نمائندہ اور تجربہ کار صنعتکاروں اور تاجروں کے اشتراک سے GSPایکسپورٹ اتھارٹی قائم کی جائے جو برآمدی صنعتوں برانڈنگ، ویلیو ایڈیشن، ریسرچ، سرٹیفیکیشن، فنانسنگ اور کوالٹی کنٹرول سمیت تمام درکار سہولیات فراہم کرے جو یقینی طور پر ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کا باعث بنے گا۔

mm
قاضی جاوید سینئر کامرس رپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔ جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com