آپ کی سوچ بھی پڑھی جا سکتی ہے

130

سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ سوچنے کے عمل کے دوران ذہن میں بننے والی لہروں کو نہ صرف پڑھا جا سکتا ہے بلکہ دماغ سے باتیں بھی کی جا سکتی ہیں۔ سائنسی جریدے 25نیچر24 میں شائع ہونے والے مقالے میں مخصوص تکنیک کے ذریعے انسانی دماغ کے ساتھ براہ راست مکالمہ کرنے کے طریقہ کار دریافت کرنے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ یہ تحقیق امریکا کی معروف کولمبیا یونیورسٹی کے دماغ کے ماہرین نے کی۔
سائنس دانوں نے دعویٰ کیا کہ دماغ میں سوچنے کے عمل کے دوران پیدا ہونے والی لہروں کو مرتب کرلیا گیا ہے اور اسے زبان دے دی گئی ہے جس کی مدد سے دماغ سے بات چیت بھی کی جاسکتی ہے۔ سائنس دان پُر امید ہیں کہ اس طریقہ کار سے دماغی سرگرمیوں کو لہروں یا سگنلز کے ذریعے مکالمے میں تبدیل کیا جا سکے گا گو اب تک کے تجربے میں آڈیو کوالٹی زیادہ بہتر نہیں ہے لیکن مستقبل قریب میں اس میں انقلابی تبدیلی آئے گی اور ایک دن انسان کے سوچنے کے عمل کو سنا جا سکے گا۔ سائنس دان اپنی تحقیق کو چند ترمیمات کے بعد فالج سے متاثرہ افراد کی جسمانی بحالی میں بھی مدد ملنے کے لیے پُر امید ہیں اور اس ٹیکنالوجی کو ذہنی اور دماغی مریضوں کے لیے بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔