انڈونیشیا:دکانوں میں قید 200 بھوکے پیاسے،بنگلادیشی بازیاب 

89
جکارتا: دکانوں میں قید بنگلادیشی باشندے بازیاب ہونے کے بعد پولیس اسٹیشن کے باہر بیٹھے ہیں
جکارتا: دکانوں میں قید بنگلادیشی باشندے بازیاب ہونے کے بعد پولیس اسٹیشن کے باہر بیٹھے ہیں

جکارتا (انٹرنیشنل ڈیسک) انڈونیشیا کے شمالی صوبے سماٹرا میں امیگریشن اہلکاروں نے 2 دکانوں میں قید 200 سے زائد غیر قانونی تارکین کو بازیاب کرالیا۔ امیگریشن حکام کے مطابق بنگلادیش سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو تنگ جگہ میں کھچا کھچ بھرا گیا تھا اور بھوک کی وجہ سے ان کی حالت انتہائی خراب تھی۔ تارکین وطن کے محکمے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تمام افراد کو سماٹرا کے صوبائی دارالحکومت میدان سے بازیاب کرایا گیا۔ ذرائع کے مطابق عمارت سے شور شرابے کی آواز بلند ہونے کے بعد پڑوسیوں نے پولیس کو اطلاع دی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں تحویل میں لے کر تارکین وطن کے محکمے کے حوالے کردیا۔ متاثرین نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ انسانی اسمگلروں نے انہیں ملائیشیا لے جانے کا جھانسا دے کر انڈونیشیا میں لاکر قید کردیا۔ حکام کے مطابق یہ واضح نہیں ہوسکا کہ انسانی اسمگلر انہیں قید کرکے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اکثر تارکین کو مہاجرین کے حراستی مرکز میں منتقل کیا گیاہے اور انہیں واپس بنگلادیش بھیج دیا جائے گا۔ مہاجرین کے مطابق انسانی اسمگلروں نے ان کے بعض گرپوں کو 3ماہ سے قید کررکھا تھا۔ انہیں پہلے بنگلادیش سے بالی لے جایا گیا، بعد ازاں وہ 4گھنٹے بس کا سفر کرکے مدان پہنچے۔ مقامی حکام کے مطابق تمام افراد بنگلادیشی تارکین وطن ہیں اور ان میں سے کوئی بھی روہنگیا مہاجر نہیں ہے۔ واضح رہے کہ رواں برس سیکڑوں کی تعداد میں روہنگیا مسلمان غیر قانونی طور پر سماٹرا جزیرے میں داخل ہونے کی کوشش کرچکے ہیں۔