مرگی قابل علاج ہے حکومت کو اقدامات کرنا ہوں گے،طبی ماہرین

96
پریس کلب : ڈاکٹر واسع شاکر،ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور ڈاکٹر عبدالمالک پریس کانفرنس کر رہے ہیں
پریس کلب : ڈاکٹر واسع شاکر،ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور ڈاکٹر عبدالمالک پریس کانفرنس کر رہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں 20 لاکھ مرگی کے مریضوں کو تکلیف دہ سماجی مسائل کا سامنا کرتا پڑتا ہے، مہنگی ادویات علاج میں تاخیر کا سبب اور متاثرہ مریض کے لواحقین کے لیے اضافی مالی بوجھ کا سبب بنتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار دماغی امراض کے ماہرین نے نیورولوجی اوئرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (نارف) کے زیراہتمام کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس کا مقصد ڈاکٹروں اور عوام کو مرگی (ایپی لیپسی) کے مرض سے متعلق آگاہی اور ان میں اس مرض کے متعلق توہمات کا خاتمہ کرنا ہے۔ آگاہی سیمینار سے نیورولوجی اوئرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (نارف) کے صدر پروفیسر محمد واسع شاکر، ماہر امراض مرگی اور نیورولوجسٹ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور ڈاکٹر عبدالمالک نے خطاب کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع شاکر نے کہا کہ پاکستان میں مرگی کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں انفیکشن زیادہ ہیں، ٹی بی، ٹائی فائیڈ، گردن توڑ بخار اس کی اہم وجوہ ہیں جب کہ سر میں چوٹ، دماغ کے اندر انفیکشن، شوگر اور بلڈ پریشر، مختلف نمکیات کے کم یا زیادہ ہونے اور الکحل کے استعمال سے بھی مرگی کا مرض ہوتا ہے، یہ مرض ابتدائی عمر جوانی اور50 سال کے بعد بھی ہو سکتا ہے، بچپن میں انفیکشن یا آکسیجن کی کمی سے بھی یہ ہوتا ہے، 50 سال کے بعد مرگی ہونے کی اہم وجہ ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور برین ٹیومر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرگی کم زور اعصاب کی بیماری ہے اس کے علاج کے لیے متعدد خرافات و افسانوی باتوں کو ترک کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں مرگی کے مریضوں کی تعداد ایک فی صد جب کہ پاکستان میں دو فی صد ہے۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ اس مرض کے بارے میں جامع تحقیقات ہو چکی ہیں اور تمام ماہرین دماغ و اعصاب اس مرض کو قابل علاج قرار دے چکے ہیں، اس لیے ہماری بھی ذمے داری ہے کہ ہم اس حوالے سے آگاہی و شعور پھیلائیں ۔ نیورولوجی اوئرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کی جانب سے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے قومی گائڈ لائنز برائے مرگی بھی تیار کی ہے جو جنرل پریکٹیشنرز کے لیے انتہائی معاون ثابت ہوگی۔نارف کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ نارف کے تحت گزشتہ 10سال سے مرگی کے علاج اور آگاہی سے متعلق ملک بھرمیں مختلف مواقع پر آگاہی کے پروگرامات منعقد کیے جاتے رہے ہیں،انہوں نے کہاکہ معاشرے میں مرض سے متعلق آگہی توبروقت اور باقاعدہ علاج سے مریض کوکارآمد شہری بنایاجاسکتا ہے۔