سراج الحق کی مفتی عبد الرحیم سے ملاقات ٗامت مسلمہ کے مسائل پرگفتگو

158
امیر جماعت اسلامی سراج الحق جامعتہ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم سے ملاقات کر رہے ہیں حافظ نعیم ودیگر بھی مو جود ہیں
امیر جماعت اسلامی سراج الحق جامعتہ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم سے ملاقات کر رہے ہیں حافظ نعیم ودیگر بھی مو جود ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر )امیر جما عت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے رئیس الجامعۃ الرشید مفتی عبد الرحیم سے جامعۃ الرشید میں ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ ملاقات میں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، نائب امیر کراچی مسلم پرویز ، سیکرٹری کراچی عبد الوہاب ، جمعیت اتحاد العلما کراچی کے ناظم اعلیٰ مولانا عبد الوحید، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے۔ مفتی عبد الرحیم نے سراج الحق اور ان کے رفقاکو جامعۃ الرشید آمد پر خوش آمدید کہااور کہاکہ آج امت مسلمہ کی ضرورت ہے کہ دین کا کام کرنے والے باہمی تبادلہ خیال کے ذریعے کام آگے بڑھائیں، ہم جن حالات سے گزرے ہیں ضروری ہے کہ ایک دوسرے کا سہارا و دست وبازو بنیں۔ انہوں نے کہاکہ کراچی خون آشام دور سے گزرا ہے لیکن آج کراچی کے حالات بہتر ہیں ،لوگوں میں مایوسی ختم ہوچکی ہے ، ایک وقت تھا کہ جب دہشت گردی عروج پر تھی ،مگر اب ایسا کچھ نہیں ہے ، شہر میں دہشت گردی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ امریکا جو پوری دنیا میں چودھری بنا ہوا تھا آ ج افغانستان میں پسپائی کا شکار ہوچکا ہے اب ان شاء اللہ افغانستان کا مسئلہ جلد حل ہوجائے گا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جامعۃ الرشید آکر ہمیں بڑا حوصلہ ملتا ہے ، دلی سکون مہیا ہوتا ہے ۔دینی وعملی شخصیات سے ملاقات ہوتی ہے اور امید کے چراغ روشن ہوتے ہیں ، جامعۃ الرشید میں نظم و ضبط اور ماحول مثالی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کسی مسلک کی بنیاد پر قائم نہیں بلکہ ہم لوگوں کو اللہ اور اس کے دین کی طرف بلاتے ہیں ، ہم امت مسلمہ کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں ۔ قاضی حسین احمد مرحوم بھی جامعۃ الرشیدکو پسند کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم اس ملک کو اسلامی اور خوشحال پاکستان بنانا چاہتے ہیں ، ہم جامعۃ الرشید کو بھی دین کا محور و مرکز سمجھتے ہیں ، ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ پاکستان کو حقیقت میں اسلام کا قلعہ بنایا جائے ۔اس موقع پر حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ کراچی کی بہتری کے لیے کام کیا ہے ، جب یہاں لسانیت کا دور دورہ تھا اور دہشت گردی کا ماحول تھا ہم نے اس وقت سیکڑوں کارکنوں کی جانیں قربان کیں، اس کے باوجود اقامت دین کی جدوجہد جاری رکھی۔ انہو ں نے کہاکہ کراچی کی تعمیر و ترقی کے سفر میں جماعت اسلامی کے عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان کا بڑا حصہ رہا ہے ، خواہ فلائی اوورکا مسئلہ ہو یا انڈر بائی پاس کا یا پھر کے 3 اورکے 4 جیسے پانی کے منصوبے یا سڑکوں کی نئے سرے سے تعمیر ، ہم نے کراچی کی بڑی خدمت کی ہے، انہوں نے جامعہ کی علمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہم بجاطور پر یہ چاہتے ہیں کہ علما واساتذہ طلبہ کی ذہن سازی میں اپنا بھرپور کردار اد کریں اور لوگوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ دیانت دار اورباصلاحیت افراد کا ساتھ دیا جائے۔