اسٹیٹ آف دی یونین خطاب ،ٹرمپ کا شمالی کوریا کی جانب جھکاؤ ،ودیگر کو دھمکیاں

48
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس سے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کررہے ہیں
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس سے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کررہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسرے سالانہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اعلان کیا ہے کہ وہ رواں ماہ ایک مرتبہ پھر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر ملاقات کریں گے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ ملاقات 27 اور 28فروری کو ویت نام میں ہو گی۔ امریکی کانگریس میں ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہنے والی تقریر میں صدر ٹرمپ نے جہاں قومی اتحاد پر زور دیا، وہیں میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے اپنے متنازع منصوبے پر بھی مُصر رہے۔ انہوں نے بیرون ملک سے اپنی فوجیں واپس بلانے اور امن کے لیے کوشش جاری رکھنے کا بھی اعادہ کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ اگر میں امریکا کا صدر منتخب نہ ہوتا تو ہم اس وقت شمالی کوریا کے ساتھ ایک بڑی جنگ لڑ رہے ہوتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی بہت کام ہونا باقی ہے، لیکن کم جونگ ان کے ساتھ میرے تعلقات اچھے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ شام اور افغانستان میں جاری لڑائی میں امریک مداخلت کے خاتمے کے منصوبوں پر کام جاری رکھیں گے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عظیم قومیں نہ ختم ہونے والی جنگیں نہیں لڑتیں۔ افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 7ہزار امریکی فوجیوں نے جانیں دیں، جب کہ مشرق وسطیٰ میں 2 دہائیوں سے جاری جنگ پر 7 کھرب امریکی ڈالر خرچ ہوئے۔ شام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم شام میں لڑنے والے اپنے بہادر جنگجوؤں کو واپس گھر میں خوش آمدید کہیں۔ امریکا صدر نے اسرائیل کو دھمکانے پر ایران کو متنبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی حکومت سے صرف نظر نہیں کریں گے، جو امریکا کے لیے موت کے نعرے لگائے اور یہود کے قتل عام کی دھمکی دے۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے خاتمے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میری حکومت نے دنیا میں دہشت گردی کی حمایت کرنے والی صف اول کی ریاست کا مقابلہ کرنے کے لیے فیصلہ کن انداز اپنایا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ یہ بدعنوان حکومت کبھی جوہریہ ہتھیار نہ بنا سکے، میں نے تباہ کن ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدگی اختیار کی اور ایران کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کیں۔ ٹرمپ نے چین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب اس کے لیے امریکی ملازمتوں اور دولت کی چوری ممکن نہیں رہے گی۔ انہوں نے چین سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر منصفانہ تجارتی سرگرمیاں ختم کرنے کے لیے اپنے نظام میں تبدیلیاں لائے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دل میں چینی صدر کا احترام رکھتے ہیں اور وہ چین کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے کے لیے کام کر رہے ہیں۔