متاثرہ دکاونداروں کو جلد بحال کیا جائے،ایوان صنعت وتجارت 

81
کے سی سی آئی کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا مختلف مارکیٹوں کے متاثرین سے خطاب کررہے ہیں
کے سی سی آئی کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا مختلف مارکیٹوں کے متاثرین سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے کہا ہے کہ کراچی چیمبر مختلف مارکیٹوں کے متاثرین کی مشکلات کو سمجھتا ہے اور انہیں ان سب کی پریشانیوں کا احساس ہے جن کی دکانیں تجازوات کے خلاف آپریشن کے دوران مکمل طور پر توڑ دی گئیں لہٰذا کراچی چیمبر مشکل کی اس گھڑی میں انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا اور ان کی بحالی کی درخواست کرتا رہے گا۔ہم بزنس مین گروپ کے چیئرمین و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم کی ہدایت پر چیمبر سے مدد طلب کرنے والے ہر تاجر کی مدد کرتے ہیں اور متاثرین کو متبادل جگہ کی فراہمی کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ وہ سازگار کاروباری ماحول میں اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں۔ یہ بات انہوں نے مختلف مارکیٹوں کے متاثرین کی کراچی چیمبرآمد کے موقع پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہی۔ کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر خرم شہزاد، نائب صدر آصف شیخ جاوید،چیئرمین خصوصی کمیٹی برائے اسمال ٹریڈرز مجید میمن، محبوب اعظم ،محمود حامد ، آصف شہزاد، تنویر باڑی، احسان گجر،منیجنگ کمیٹی کے اراکین و دیگر بھی اجلاس میں موجود تھے جس میں ایمپریس مارکیٹ، جہانگیر پارک مارکیٹ، زولوجیکل گارڈن مارکیٹ، کھوری گارڈن مارکیٹ، میراج مارکیٹ، کیٹرک مارکیٹ، جناح مارکیٹ، اکبر روڈ مارکیٹ، اُردو بازار، اورنگزیب مارکیٹ اور لی مارکیٹ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔جنید ماکڈا نے کے سی سی آئی کی تجویز پر اسمال ٹریڈرز کی جانب سے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کے فیصلے کو مؤخر کرنے کو سراہتے ہوئے کہاکہ کے سی سی آئی دھرنے کے حق میں نہیں اور نہ ہی اس کی حمایت کرے گا بلکہ بات چیت سے مسائل کو حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ہم میئر کراچی کے ساتھ متواتر اجلاس منعقد کررہے ہیں اورسندھ حکومت سے بھی رابطے میں ہیں تاکہ چھوٹے تاجروں کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جاسکے۔ وہ پر اُمید تھے کہ کراچی چیمبر متاثرین کو بذریعہ قرعہ اندازی متبادل جگہ فراہم کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف مہم کے نتیجے میں لوگوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہوگئی ۔ہمیں ڈر ہے کہ یہ صورتحال جرائم کو جنم دے گی اور کراچی میں امن وامان کو دھچکا پہنچے گا جہاں بالآخر امن ہوا ہے۔