پاکستان میں 20 لاکھ مرگی کے مریضوں کو تکلیف دہ سماجی مسائل کا سامنا کرتا پڑتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمدواسع شاکر

130

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) پاکستان میں 20 لاکھ مرگی کے مریضوں کو تکلیف دہ سماجی مسائل کا سامنا کرتا پڑتا ہے۔ مہنگی ادویات علاج میں تاخیر کا سبب اور متاثرہ مریض کے لواحقین کیلئے اضافی مالی بوجھ کا سبب بنتی ہیں۔اس بیماری کے بارے میں ہمارے معاشرے میں موجودشدید توہمات سے مرگی کا مریض متاثر ہوتا ہے،

یہ بیماری خواتین کو طلاق اورشادی کیلئے رشتوں سے انکار کا سبب بنتی ہے ،مرگی کے مریض کی شادی یا علیحدگی دونوں صورتوں میں معاشرے پر مزید بوجھ پیدا کررہی ہیں۔ادویات میں سبسڈی کی منصوبہ بندی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔،

ان خیالات کا اظہار اظہاردماغی امراض کے ماہرین نے نیورولوجی اویئرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (نارف) کے زیراہتمام کراچی پریس میں پریس کانفرنس سے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس کا مقصد ڈاکٹروں اور عوام کومرگی(ایپی لیپسی) کیمرض سے متعلق آگہی اور ان میں اس مرض کے متعلق توہمات کا خاتمہ کرنا ہے،

آگاہی سیمینار سے نیورولوجی اویئرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (نارف) کے صدر پروفیسر محمدواسع شاکر ، ماہر امراض مرگی اور نیورولوجسٹ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ، ڈاکٹر عبد المالک ، خطاب کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نامور ماہرامراض دماغ پروفیسر ڈاکٹرمحمد واسع شاکر نے کہا کہ پاکستان میں مرگی کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں انفیکشن زیادہ ہیں،

ٹی بی، ٹائیفائیڈ، گردن توڑ بخار اس کی اہم وجوہات ہیں جبکہ سر میں چوٹ، دماغ کے اندر انفیکشن، شوگر اور بلڈ پریشر، مختلف نمکیات کے کم یا زیادہ ہونے اور الکوحل کے استعمال سے بھی مرگی کا مرض ہوتا ہے۔ یہ مرض ابتدائی عمر جوانی اور 50 سال کے بعد بھی ہوسکتا ہے۔ بچپن میں انفیکشن یا آکسیجن کی کمی سے بھی یہ ہوتا ہے۔ 50 سال کے بعد مرگی ہونے کی اہم وجہ ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور برین ٹیومر ہے،

انہوں نے کہا کہ مرگی ایک کمزوراعصابی بیماری ہے اس کے علاج کیلئے متعدد خرافات و افسانوی باتوں کو ترک کرنا انتہائی ضروری ہے۔اس مرض میں مریض کے شعور میں اچانک کمی کی وجہ سے شدید جھٹکے لگتے ہیں اور جسم سخت ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں مرگی کے مریضوں کی تعداد ایک فیصد جبکہ پاکستان میں دو فیصد ہے۔ یہ مرض 30سال سے کم عمر کے لوگوں میں پایا جاتا ہے،

یہ مرض دیہی علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جس کا ثبوت 27.5فیصد دیہی اور 2.9فیصد شہری علاقوں میں مرگی کے مرض کا پایا جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرگی ایک بیماری ہے جو قابل علاج ہیجس کے علاج کے لئے ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ہے ڈاکٹرمحمد واسع شاکر نے کہا کہ اِس ضمن میں حکومت کی بے حسی اہم ہے کہ جہاں اتنے بڑے پیمانے پر لوگ بیمار ہیں یا مر رہے ہیں (کیونکہ یہ بیماری مہلک بھی ثابت ہوسکتی ہے) اور حکومت کی طرف سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا،

جتنے اقدامات متعلقہ سوسائٹیز نے تجویز کئے کہ پاکستان میں اِس بیماری کو روکنے کے لئے کیا اقدامات ہونے چاہئیں، اْن پر عمل نہیں ہوسکا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کی تجاویز دیگر ممالک میں نافذ ہوچکی ہیں، جن میں انڈیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا بھی شامل ہیں،

اِن ممالک میں تو حکومت نے اِس بیماری کے لئے باقاعدہ سرکاری سطح پر ٹاسک فورس قائم کی جاچکی ہیں جس میں اِس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ بیماری کو روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن پاکستان میں چونکہ وفاقی سطح پر وزارتِ صحت عملاً فنکشنل نہیں ہے، اس لئے کوئی اقدامات بھی نہیں کئے گئے ہیں،

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہاکہ اِس مرض کے بارے میں جامع تحقیقات ہوچکی ہیں اور تمام ماہرین دماغ و اعصاب اِس مرض کو قابلِ علاج قرار دے چکے ہیں۔ اس لئے ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم اِس حوالے سے آگہی و شعور پھیلائیں تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جاسکے۔،

اِس کے ساتھ ساتھ جب یہ آگہی پیدا ہو تو اِس کے نتیجے میں ایسے اقدامات کئے جائیں کہ جس میں اِس بیماری کی شرح کو قابو کیا جاسکے، جو بیماری بڑھ رہی ہے اس کو روکا جاسکے اور جن کو یہ بیماری ہے اْن کا علاج کیا جاسکے۔