وفاق سے 104 ارب کم ملے، ترقیاتی کام متاثر ہورہے ہیں، وزیر اعلیٰ سندھ

38
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ہینڈز کے تحت کنونشن سے خطاب کررہے ہیں
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ہینڈز کے تحت کنونشن سے خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو اس سال وفاقی کی جانب سے ملنے والی رقم میں 104 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔ اس طرح کی کمی سے ہمارا کیش فلو اور ترقیاتی کام متاثر ہو رہے ہیں۔ پیر کو نیشنل کمیونٹی کنونشن جس کا اہتمام ہینڈز نے گڈاپ میں کیاتھا میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس سال وفاقی حکومت نے فنڈز بڑھانے کی بات کی تھی مگر یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وفاق سے266 بلین روپے ملنے کے بجائے صرف 256 بلین روپے ملے ہیں جو گزشتہ سال سے بھی کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال 90 ارب روپے کم دیے ہیں اب وہ بڑھ کر 104 ارب ہوگئے ہیں اور یہ 7 مہینے کا حساب ہے جبکہ ایک مہینہ اور بڑھ گیا۔ اس طریقے سے کمی آئے گی تو ہم کیسے کام کرسکیں گے۔ میں ترقیاتی پروگراموں کے لیے آگے بڑھ رہا تھا مگر مجھے روک دیا گیا۔ اب تو سننے میں یہ آرہا ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنے اہداف مکمل نہیں کیے ، وہ کہہ رہی ہے کہ صوبائی حکومت جو ٹیکسز جمع کرتی ہے وہ بھی اب ہم لیں۔گزشتہ 5 سال میں سندھ حکومت نے جو ٹیکسز جمع کیے ان میں 22 فیصد سالانہ اضافہ ہوا اور وفاقی حکومت کا صرف 8 فیصد اضافہ ہواہے۔ اب وہ ہم سے یہ بھی لینا چاہتے ہیں۔صوبہ بہتر طریقے سے ٹیکس جمع کرسکتا ہے کیونکہ صوبہ صارف کے قریب ہے۔ سیلز ٹیکس مکمل طورپر صوبوں کو دینا چاہیے۔ قبل ازیں نیشنل کمیونٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کی حکومت ہینڈز کے چیف ڈاکٹر غفار بلو کے ساتھ نرسنگ انسٹیٹیوٹ کے قیام کے حوالے سے ہر ممکن تعاون کرے گی اور ان کے مالی طورپر استحکام کے لیے کام بھی کرے گی۔