’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘ سن لو بھارتیو…!!

99

 

 

 

شاہد نسیم چودھری
undp@hotmail.com
پاکستان میں آج پھر پانچ فروری کا سورج اس عہد کے ساتھ طلوع ہوا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی ہمارے ایمان کا حصہ ہے، ان کی ہر طرح کی مدد پر لازم ہے، آج کے دن بڑے بڑے جلوس نکالنا، کانفرنس، سیمینار اور ہاتھوں کی زنجیریں بنانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، ہم قدرتی، تاریخی اور جغرافیائی طور پر دائمی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، پانچ فروری کو یوم یک جہتی کشمیر کے طور پر منا کر پاکستانی بھارتی سورمائوں کو پیغام دیتے ہیں کہ حق خود ارادیت کی اس جدو جہد میں کشمیری اکیلے نہیں ہیں۔ خیبر سے مہران تک پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے اور دنیا بھر میں موجود کشمیریوں کے ساتھ ساتھ ہمارے دل دھڑکتے ہیں۔ ہم پاکستانی ڈنکے کی چوٹ پر کشمیریوں کی ہر طرح کی مدد کا اعادہ کرتے ہیں اور ان کو باور کراتے ہیں کہ ان کی آزادی اب صرف چند قدم کے فاصلے پر ہے۔ آج پھر ہم تجدید عہد کرتے ہیں کہ حق خود ارادیت کشمیریوں کا وہ حق ہے جسے اقوام عالم ۴۹۔۱۹۴۸میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے فورم پر تسلیم کر چکی ہیں، اور جس کے لیے آزادی و حریت کے جذبے کے ساتھ اہل کشمیر نے لازوال قربانیاں دی ہیں، اور جہد مسلسل کے ساتھ اپنی عزت، غیرت اور حق خود ارادیت کے لیے بے مثال قربانیاں دی جا رہی ہیں، اور آج بھی اپنا تن من دھن قربان کیے جا رہے ہیں۔
میرے پیارے کشمیریو!! آج پھر پانچ فروری ہے آپ کا حق خود ارادیت کا دن ہے جس پر پوری پاکستانی قوم آپ کی بھرپور حمایت کرتی ہے، آپ کے شانے سے شانہ ملا کر بزدل بھارت کے ظلم وستم کی بھر پور مذمت کرتی ہے، پوری پاکستانی قوم کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے، ہمارے قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، ہم کو اپنے قائدکا فرمان دل و جان سے عزیزہے، ہم یک جان دو قالب ہیں اور ہم برملا کہتے ہیں کہ جب تک ہمارے جسم میں خون کا ایک بھی قطرہ موجود ہے ہم کشمیریوں کی اخلاقی، سماجی، سیاسی اور ہر طرح کی مدد جاری رکھیں گے، کشمیر میں بزدل بھارت کشت و خون کی جو ہولی کھیل رہا ہے اس کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔ بزدل بھارت یہ بھی سن لے اور یاد رکھے کہ کشمیر میں ہم خون کے بہتے دریا بہت دیکھ چکے، لاشوں کے ڈھیر بھی اٹھائے جا رہے ہیں، آزادی کے متوالے دن رات قربانیاں پیش کیے جا رہے ہیں، تم جتنے ظلم و ستم چاہو کر کے دیکھ لو، یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، تیری کوئی تدبیر کام نہیں آئے گی، اب منزل بالکل سامنے ہے، وانی شہید آزادی کی جو شمع روشن کر گیا ہے وہ کبھی بھی نہیں بجھ سکتی، ایک وانی شہید کیا ہوا کہ اب تو گھر گھر میں وانی پیدا ہو گیا ہے، لاکھوں وانی اپنی دھرتی کو آزاد کرانے اور تمہارے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے سر بکف تیار بیٹھے ہیں، تم کس کس کو مارو گے، بزدل بھارت! یاد رکھنا اگر تم نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم نہ بھی کیا، ان کو استصواب رائے کا حق نہ بھی دیا، تو اب وہ آزادی کے متوالے اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ تم سے چھین کر بھی آزادی لے لیں گے، اب صرف آخری دھکے کی ضرورت ہے جو بہت جلد لگنے والا ہے، جس سے تمہاری جعلی انا اور ہٹ دھرمی کی دیوار ریزہ ریزہ ہو جائے گی، اس دن آخری کیل تمہارے ناپاک تابوت میں ٹھوکی جائے گی ان شاء اللہ۔
کشمیر میں جتنے ظلم و ستم تم نے کیے ہیں اور تمہارے راستے میں آزادی کے متوالے جس طرح سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں اور جس قوت ارادی کے ساتھ وہ آزادی کے لیے کوشاں ہیں اس سے بھارت میںموجود سکھوں، عیسائیوں اور برہمنوں وغیرہ میں بھی آزادی کی تحریک شروع ہوچکی ہے، کیوںکہ جمہوریت کا چمپئن ہونے کے دعویدار بھارت نے سکھوں، عیسائیوں اور برہمنوں پر بھی ظلم کے پہاڑ توڑنا شروع کر دیے ہیں، اب بہت جلد بھارت کے اندر لاوہ پھٹنے والا ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے قریب ہیں، کشمیریوں کو آزادی کی خاطر اور اپنے حق کے لیے لڑتا دیکھ کر بھارت میں موجود اقلیتوں کو بھی حوصلہ ملا ہے، وہ بھی اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے پر مجبور ہو گئے ہیں، آج بھارت میں موجود اقلیتیں بھی کشمیریوں کے حق میں بول رہی ہیں، ان پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں، بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ بعض ہندو لیڈر بھی کشمیر میں جاری ظلم و ستم کو برا کہ رہے ہیں جو بھارت کے منہ پر طمانچہ ہے، مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کشمیر کے بارے میں اپنے جذبات کچھ یوں بیان کرتے ہیںکہ ؎
آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر
سینہء افلاک سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک
مرد حق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان و امیر
کہ رہا ہے داستاں بیدردی ایام کی
کوہ کے دامن میں وہ غم خانہء دہقان پیر
آہ! یہ قوم نجیب و چرب دست و تر دماغ
ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دیر گیر
قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ ہم جتنی زیادہ تکلیفیں سہنا اور قربانیاں دینا سیکھیں گے، اتنی ہی زیادہ پاکیزہ، خالص اور مضبوط قوم کی حیثیت سے ابھریں گے، جیسے سونا آگ میں تپ کر کندن بن جاتا ہے۔
آج پانچ فروری کو پوری دنیا کے مسلمان کشمیریوں کو ان کی آزادی کے لیے جدو جہد اور کوششوں پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، بحیثیت پاکستانی ہم بھی ان کے لیے دعاگو ہیں، کیوںکہ وہ ہمارے جسم کا حصہ ہیں ہماری شہ رگ ہیں۔ آج پھر ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوںکے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے کے لیے اور ان کی اخلاقی، سیاسی، سماجی مدد کے لیے ہمہ تن حاضر ہیں اور ان کی جدو جہد آزادی کو سلام پیش کرتے ہیں، اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ آپ کی لاکھوں قربانیوں اور شہادتوں کے بدلے میں آپ کی آزادی کی منزل اب سامنے نظر آرہی ہے، بس ہمت نہیں ہارنا، سن لو بھارتیو!! کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، جس کی حفاظت کرنا پاکستانی جانتے ہیں۔