بھارت جتنی کوشش کر لے کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا،صدر مملکت

87

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ کشمیر پر صرف کشمیریوں کا حق ہے اور کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیریوں کو کرنا ہے،بھارت جتنی کوشش کر لے کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

صدر عارف علوی نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے سامنے مطالبات رکھتے ہوئے کہا کہ بھارت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، بھارت آزادی اظہار کی اجازت دے تاکہ کشمیری اپنی بات کہہ سکیں۔صدر عارف علوی نے کہاکہ نہتے کشمیریوں پر آتشیں اسلحے کا استعمال بند کیا جائے، بھارت کشمیریوں پر پیلٹ گن کا استعمال بند کرے، جارحانہ کالے قوانین واپس لیے جائیں، بھارت کشمیری قیادت کو اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لیے بیرون ملک جانے دے۔

صدر مملکت نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کے مبصرین کے لیے مقبوضہ کشمیر کے راستے کھولے جائیں تاکہ وہ خود جاکر کشمیر میں دیکھ سکیں اور بھارت عالمی و سوشل میڈیا کے لیے کشمیر کے رابطے کھولے۔خطاب کے دوران صدر عارف علوی نے کہا کہ حکومت پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کرتی ہے، کشمیری عوام کسی قوت کا تسلط تسلیم نہیں کرتے اپنا فیصلہ خود کریں گے، کشمیر پر صرف کشمیریوں کا حق ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیریوں کو کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدیوں سے کشمیری بھائی ظلم سہتے آئے ہیں، بھارت جتنی کوشش کر لے کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، ظلم کا شکار کشمیری تاریخ رقم کرتے جا رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں جب بھی کارروائی کی جاتی ہے تو انٹرنیٹ سروس بند کردی جاتی ہے، وہاں ہونے والے ایک ایک ظلم کی تصویر دنیا کے سامنے لانا ہوگی۔

صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ گرداس پور پاکستان کے پاس آتاتو بھارت کا کشمیر سے رابطہ نہ ہو سکتا، با ؤ نڈری کمیشن نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سازش کی۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بلاتفریق حمایت کرتے ہیں، بھارت میں ووٹ لینے کے لیے سیاستدان مسئلہ کشمیر کو فٹ بال بناتے ہیں، خود ساختہ مقابلے بنا کر بھارتی فوج کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نئی حکومت آئی تو بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن بھارت نے اسے رد کیا جس پر افسوس ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ جنرل اسمبلی کی صدر سے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں حقائق جاننے کے لیے کمیشن کو وہاں بھیجا جائے، بھارت نے کمیشن کی مخالفت کی کیونکہ اس کے پاس دلائل نہیں جب کہ پر امن جدوجہد کو ہتھیاروں سے دبایا جا رہا ہے۔