ویلفیئر اداروں میں کرپٹ لوگ سدا بہار ہیں 

153

قموس گل خٹک

کہا جاتا ہے کہ دنیا بدل گئی اس کے ساتھ ماضی کے تمام طور طریقے بھی بتدریج تبدیل ہورہے ہیں۔پہلے زمانے میں ایماندار اور فرض شناس لوگوں کی عزت ہواکرتی تھی اور اب ایسے بیورو کریٹ ملازمین لیبر لیڈر صنعت کاروں کے نمائندوں کو سہ فریقی ویلفیئر اداروں میں ناپسند یدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ایک آدھ ممبر کو دکھا وے کے لیے ضرور نامزد کیاجاتا ہے وہ بھی سیاسی طورپر حکمران پارٹی سے تنظیمی تعلق رکھنے کی وجہ سے تاکہ وہ ایجنڈے پر کسی غیر قانونی اور مزدور مفاد کے خلاف تجاویز کی مخالفت نہ کرسکے۔ جیساکہ ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ میں ہمیشہ ویلفیئر اسکیموں سے مراعات حاصل کرنے کے لیے مزدوروں کی درخواستوں کو چیک کرنے کے لیے زونل وائز سہ فریقی سکروٹنی کمیٹیاں کراچی ، حیدر آباد، سکھر اور لاڑکانہ کی الگ الگ بنتی تھیں تاکہ جلد از جلد درخواستوں کو چیک کرکے درست درخواستوں کی سفارشات ہیڈ آفس کراچی بھیجی جائیں۔ مگر اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی خود مختاری کے چمپئن حکمرانوں نے ورکرز ویلفیئر فنڈ ایکٹ 2014 میں بورڈ کو سہ فریقی سے ایک فریقی اور سیکرٹری لیبر کی جگہ وزیر محنت کو چیئرمین بناکر بورڈ کوسیاسی ادارہ بنادیا۔ اس عمل سے بورڈ کے چیئرمین کا رابطہ مزدور رہنماؤں سے ختم ہوکر صرف پیپلز لیبر بیورو تک محدود کردیاگیا اور سہ فریقی ویلفیئر اداروں میں ایمپلائیر و صنعتی کارکنوں کے نمائندوں کی نامزدگی بھی حکمران جماعت کی ذیلی ادارے پیپلز لیبر بیورو اورحکمران جماعت کے سیاسی کارکنوں تک محدود کر دی گئی ۔ یہاں تک کہ سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن اور ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ میں ایسے افراد کو مزدورنمائندوں کے طورپر نامزد کیا گیا جن کاصنعتی مزدوروں سے مطلق کوئی تعلق نہیں اور کاغذی فیڈریشنوں یا ٹریڈ یونین کے حوالے سے انہیں مزدور لیڈر بتاکر بورڈ میں اپنی بدعنوانیوں کے تحفظ کیلئے نامزد کیاگیا ۔ کیونکہ ان اداروں میں ممبران کی نامزدگی کا جومعیار ہواکرتا تھا۔ اس
کومزدور دوست جماعت نے یکسر ختم کرکے بادشاہوں کی طرح درباریوں کو نامزد کرنے کا پیمانہ اپنا یا اگر حبیب الدین جنیدی جیسے قابل احترام مزدور رہنما کو لازمی طورپر بورڈ کا ممبر نامزدکیا جاتا ہے تو وہ پارٹی ڈسپلن کی وجہ سے چیئر کی جانب سے کسی بھی تجویز کی مخالفت نہیں کرسکتے۔ چاہے وہ تجویز مزدور مفادات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اس کے علاوہ میرے محترم دوست کا صنعتی کارکنوں سے براہ راست تعلق نہیں رہا ہے۔ اس نے بینک انڈسٹری کے ملازمین کے لیے قابل قدر خدمات انجام دی ہیں ۔آپ اندازہ لگائیں کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں قائم اسکروٹنی کمیٹیوں کو ختم کرکے بیورو کریٹ پر مشتمل پورے سندھ کے لیے کراچی میں ایک سکروٹنی کمیٹی تشکیل دے کر صوبائی خودمختیاری کے دعویداروں نے ون یونٹ فارمولے پر عمل شرو ع کیا ہے۔ کیا اس طریقہ کار سے بورڈ کو کسی قسم کامالی فائدہ پہنچانا مقصود تھا کہ سکھر لاڑکانہ اور حیدرآباد میں ویلفیئر اسکیموں کے لیے جمع شدہ درخواستوں کی چیکنگ کراچی میں ہو۔ ہر گز نہیں بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ ویلفیئر اسکیموں سے مراعات حاصل کرنے والے مزدوروں کو ڈپٹی ڈائریکٹر ویلفیئر کراچی کے رحم و کرم پر رکھا جائے تاکہ وہ اوپر کے ہدایات یا اپنے پسند ناپسند کی بنیاد پر ویلفیئر اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے زیر غور درخواستوں کا فیصلہ کر سکے۔ ابھی جنوری 2019 میں بورڈ میٹنگ کے ایجنڈے پر پورے سندھ کے اسکروٹنی کمیٹی چار بیورو کریٹ پر مشتمل تجویز کی گئی تھی جس میں ایک بھی ایمپلائر اور مزدوروں کا نمائندہ شامل نہیں تھا جبکہ قانون کے تتحت اس سہ فریقی ادارے میں ایسی کوئی سب کمیٹی نہیں بن سکتی جس میں تینوں فریق کے نمائندے شامل نہ ہوں۔ یہ کئی سال سے ہورہاتھا اس لیے 2014سے ہزاروں ڈیتھ گرانٹ کے مقدمات زیر التوا ہیں۔ ابھی جنوری 2019میں جو (106)ڈیتھ گرانٹ کلیم حیدر آباد زون کے منظور کیے گئے ہیں۔ یہ 2017سے (125)کلیم چیک ہوکر سیکرٹری بورڈ کے منظوری کے لیے بھیجے گئے تھے جو سابقہ سیکرٹری محمد آصف میمن کے دستخط کے لیے کئی مہینے پڑے تھے اور میں نے بورڈ ایمپلائز یونین کی جانب سے منعقدہ جلسہ عام 19 دسمبر 2017 میں ناصر حسین شاہ، رشید سولنگی، محمد آصف میمن، حبیب الدین جنیدی اور کرامت علی کی موجودگی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سیکڑوں ڈیتھ گرانٹ کے مقدمات میں سے (125)حیدرآباد ریجن کے کیس سیکرٹری بورڈ کے دستخطوں کے منتظر ہیں اور مرنے والے مزدوروں کی بیوائیں روز دفتروں کے چکر کاٹ رہی ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہورہاہے۔ جس پر اس وقت کے وزیر محنت نے جلسہ عام میں یقین دلایا تھا کہ ڈیتھ گرانٹ کے کیس ہنگامی بنیادوں پر منظور کیے جائیں گے مگر ہوا یہ کہ (125)کو (106) کر کے 2019 میں پورے سال کے بعد منظور کیے گئے اس میں سے چن چن کر متحدہ لیبر فیڈریشن سے ملحقہ یونینوں کے مرحومین کے کلیم نکال دیے گئے جبکہ حیدر آباد ریجن میں لاکھڑا کول فیلڈ کے مائیننگ حادثات میں مرنے والوں کے سیکڑوں ڈیتھ گرانٹ کے کیس پانچ سال سے پڑے ہیں۔ نہ ان کیسوں پر کوئی اعتراض ہے اور ان درخواستوں کا کوئی فیصلہ کیا جارہا ہے اسی طرح اندرون سندھ اور
کراچی میں ہزاروں کلیم سرخ فیتے کی نذر ڈپٹی ڈائریکٹر ویلفیئر کراچی کے رحم وکرم پر ہیں جو لوگ ان کوخوش کرلیتے ہیں وہ کامیاب، جومیری طرح روزنامہ جسارت کے صفحہ محنت پر یامراسلات کے ذریعے کرپشن کے خلاف بولتے ہیں ان کی سزا ایسے مزدور رہنماؤں کے زیر قیادت مزدوروں کو دی جارہی ہے۔
حالیہ بورڈ میٹنگ میں وطن دوست فیڈریشن کے قائد عبدالعزیز عباسی نے اسکروٹنی کمیٹی کے اسٹرکچر پر جب قانونی اعتراض کیا اور وزیر محنت، چیئرمین آف بورڈ نے اس اعتراض کو درست قراردیتے ہوئے سہ فریقی اسکروٹنی کمیٹی بنوائی تو ڈپٹی ڈائریکٹر ویلفیئر کراچی کی اجارہ داری ختم ہوئی اور عباسی کے مطابق انہوں نے عباسی پر طنز یہ جملے کستے ہوئے کہا کہ کمیٹی میں آنے کے بعد تم بھی اپنے استاد خٹک کی طرح نیب میں جاؤ گے مگرانہوں نے یہ چھپایا کہ عباسی کے استاد پر نیب کی جانب سے مالی کرپشن کا الزام نہیں اگر ایساہوتا تو وہ بھی ان کے والد محترم اور چند دیگر کی طرح پلی بارگینگ یارضاکارانہ پیسے جمع کرکے کیس سے نکل گئے ہوتے۔ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ صنعت کاروں کی جانب سے مزدوروں کے فلاح وبہبود کے لیے جمع کردہ فنڈ پر کب تک کرپٹ لوگ عیاشی کریں گے اور اس فنڈ کے اصل اسٹیک ہولڈر اور صنعتی مزدور کب تک خاموش رہیں گے۔ جس دن مزدور رہنما ؤں اور درخواست گزاروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو اس دن بورڈ کے بدعنوان بیورو کریٹ چھٹی لے کر چھپ جائیں گے۔ بہتر ہوگا کہ ڈیتھ گرانٹ، جہیز گرانٹ، اسکالر شپ اور سیونگ مشینوں کی اسکیموں کو فعال بنا کر مزدوروں کو مالی فوائد دینا شروع کیا جائے اور دلالوں کے ذریعے مکانات اور فلیٹوں کے الاٹمنٹ پر بچاس ہزار ریٹ ختم کیا جائے ورکرز ماڈل اسکولوں کو یتیم خانوں میں تبدیل نہ کیا جائے۔ بلکہ ان کو ورکز ماڈل اسکول بنایا جائے سوشل سیکورٹی سے صنعتی مزدوروں کو میڈیسن کے نام پر دونمبر دوائیں نہ دی جائے۔