کیا مسلمانوں کو باہم لڑانے کی سازش کامیاب ہوگئی؟

88

 

سمیع اللہ ملک

اب توان قوتوں کویقین کرلینا چاہیے جس کی دُہائی پچھلی تین دہائیوں سے دی جارہی ہے کہ ’ورلڈآرڈر‘ کے تخلیق کاریہودی نژادہنری کسنجر کے منصوبے کے تحت عالم اسلام کوتباہ کرنے کاجوپروگرام مرتب کیاگیا، اسی کے مطابق ایران عراق جنگ سے شروع کی گئی کہانی، صدام کے ہاتھوں کویت پرقبضے کے بعدمشرقِ وسطیٰ میں باقاعدہ اپنے جنگی اڈوں کے قیام کے لیے کویت، سعودی عرب اور قطر کا انتخاب، عراق کی مکمل تباہی کے بعدصدام کوپھانسی پرلٹکادینا، بعدازاں عرب بہارکے نام پرلیبیاکوتاراج کرکے معمرقذافی کی لاش کو سربازار گھسیٹنا اور اس کے بعد شام میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خانہ جنگی کا آغاز اور اب خطے میں 2 مضبوط معیشت کی حامل ریاستوں، سعودی عرب اورایران کا یمن میں اپنے تمام مالی وسائل کابیدردی سے جنگ کی آگ میں جھونک دینے کا سلسلہ ’ورلڈآرڈر‘ کے شیطانی جاری عمل کی نشاندہی کوسمجھنے کے لیے کافی ہے۔ اس پرمستزاد یہ کہ اب روس اورامریکاسمیت مغربی استعماری قوتوں نے مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے بعدشام میں اپنے جاری کھیل کواچانک ختم کرنے کی تیاریوں اور غیرمعمولی تباہی اورقتل عام کے باوجودبشارالاسدکی حکومت کوقائم رکھنے کے بعدیہ سازش کھل کرسامنے آگئی ہے کہ عالمی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ کے نئے منظرنامے میں عرب علاقوں میں مسلمانوں کو کمزور کرکے اپنی مرضی کاسیٹ اپ قائم کرناچاہتی ہیں۔ چنانچہ قصرسفیدکے فرعون ٹرمپ نے اچانک شام سے فوجی انخلا کا اعلان کردیاہے جس کے بعد عراق، شام، افغانستان اور لیبیا کی صورتحال پرنظررکھنے والے تجزیہ نگاروں نے سوال اٹھایاہے کہ شام میں امریکی پالیسی اس قدرالگ تھلگ اورمنفردکیوں رہی؟
اس سوال کاجواب مختلف سیاسی ودفاعی تجزیہ نگاراورعسکری ماہرین اس طرح دے رہے ہیں کہ امریکاسمیت عالمی قوتیں مشرقِ وسطیٰ کے نئے منظرنامے پر مسلمانوں کو کمزور کرنے اور انہیں اپنے مہروں کے رحم وکرم پرچھوڑنے کی منصوبہ بندی کرچکی ہیں جوامریکااورعالمی قوتوں کے مفاد کے لیے خطرہ نہیں بلکہ معاون ہیں۔ عالمی قوتوں کے اس منصوبے کی پرتیں اب کھل کرسامنے آگئی ہیں۔ روس اورامریکانے شام میں صدربشارالاسدکاساتھ دینے کے لیے شام میں ایسے وقت میں مداخلت کی تھی جب بشارالاسدکے خلاف ملک کی 70 فیصد آبادی بشارالاسدکے مظالم کے خلاف تقریباً کامیابی سے ہمکنارہونے والی تھی۔ عرب خبررساں اداروں کے مطابق امریکی فوجی ذرائع نے شام میں مشن مکمل ہونے کااعلان کیاہے۔ امریکا نے 22 دسمبر 2014ء کوشام میں اپنی فوجیں بھیجی تھیں اوریہ وہ وقت تھاجب شام میں داعش نے اپنی موجودگی اور قیام کااعلان کیا تھا۔ یادرہے کہ داعش کے قیام کے بارے میں امریکی سابقہ وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن اپنے انٹرویوزکے علاوہ اپنی کتاب میں بھی انکشاف کرچکی ہیںکہ مشرقِ وسطیٰ اوردیگرممالک میں اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے اس تنظیم کو ہم نے اسرائیل کے توسط سے کھڑا کیا۔
امریکانے بعدازاں اپنے دہرے معیارکوچھپانے کی خاطرداعش کے خلاف کارروائی کاجوازبناکرشام میں فوجی اڈے ھاصل کیے اورچنددیگرممالک کوشام میں داعش کے نام پر مشتبہ ٹھکانوں پربمباری شروع کردی۔ امریکانے انتہائی مہارت اورسرعت کے ساتھ شام میں انٹیلی جنس ورک قائم کرلیاجبکہ عراق میں 2003ء میں صدرصدام حسین کے خلاف جارحیت کی وجہ سے امریکاپہلے سے موجود تھا۔ امریکانے شام کی بہت سی ایسی تنظیموں پرپابندی عائدکردی جوبشارالاسدکے خلاف عوامی تحریک میں اہم کرداراداکررہی تھیں۔ ایسی تنظیموں میں النصرہ فرنٹ کانام نہایت اہم اورسرفہرست ہے۔ شامی تحریکوں پرنظررکھنے والے تجزیہ کاروں کامانناہے کہ شام کی تحریک کی ناکامی کی ذمے داری روس اور امریکا ہی پر عائدہوتی ہے اوریقیناً یہ ان دونوں ممالک کی اندرونی ملی بھگت اورسازشوں کی وجہ سے سامنے آئی ہے ۔
شام کااکثریتی طبقہ بشارالاسد کے مخالف مکتب فکرسے تعلق رکھنے والوں کاہے جبکہ بشارالاسد کا خاندان اور فرقہ شام کی محض 15 سے 20 فیصدآبادی پرمشتمل ہے لیکن اس کے باوجودشام کے علوی خاندان کے لوگوں کوشناختی کارڈ پرایسے خصوصی کوڈنمبرہوتے ہیں جس کے ذریعے سرکاری اداروں،ہوائی،زمینی اورسمندری راستوں پرسفراورتجارتی سرگرمیوں کے دوران کسٹم اوردیگراہم اداروں میں ان کی شناخت کی جاتی ہے اورانہیں خصوصی ریلیف اورسہولت فراہم کی جاتی ہے۔یہ طبقہ شام کاسب سے زیادہ طاقتورتسلیم کیا جاتاہے اورعلوی خاندان کے پس منظرکوجاننے والے مبصرین کے مطابق بشار الاسد کے دادا سلیمان الاسد فرانس کاخصوصی نمک خوار اور وفادار تھا۔ اسی سلیمان الاسد کا بیٹا حافظ الاسد شامی فضائیہ میں کمیشن لے کربھرتی ہوا اورغیرمعمولی سرعت ترقی کے ساتھ شام کا بالآخر ڈکٹیٹر بن گیا۔ خطے میں بعث پارٹی کاقیام عمل میں لایا گیا جس کی عراق اورشام میں مکمل حکمرانی قائم کی گئی۔ عراق میں صدام حسین نے بعث پارٹی کے ذریعے اقتدار سنبھالا جبکہ حافظ الاسدنے شام میں اس پارٹی کے پلیٹ فارم سے 1971ء میں اقتدارپر قبضہ کیا اوراپنے مرنے تک29سال شام کے سیاہ وسفیدکامالک بنارہااوراسی پارٹی نے 2000ء میں اس کے مرنے کے بعداس کے بیٹے بشارالاسدکوشام کی عنان اقتدارسونپ دی جوآج تک اسی عہدے پربراجمان شام کی 70فیصداکثریتی سنی آبادی کواپنے اتحادیوں کی مددسے خون میں نہلارہاہے ۔
ظلم کی انتہا یہ ہے کہ روس اورامریکانے ’ورلڈآرڈر‘کے مطابق سوچی سمجھی سازش کے عین مطابق اس ڈکٹیٹرکے بجائے شام کے اکثریتی عوام ہی کو نشانہ بنایا جو آزادانہ انتخابات کامطالبہ کر رہے تھے لیکن امریکا اور اس کے مغربی حواری جوجمہوریت کے بڑے چیمپئن بنتے ہیں ،انہوں نے بشارالاسدکے بجائے جائزمطالبہ کرنے والی اکثریت ہی کو کچل ڈالا۔ شام کے اہم سنی شہروں ادلب، حماس اورحلب کو زمینی اور فضائی بمباری کرکے ملیامیٹ کردیا گیا اور ایران اور اس کے ہم فکری لسانی فرقے کے داخلے کی راہ ہموارکی گئی اورسنی علاقوں کو حکومتی اورایرانی مکتب فکر کے لوگوں کے حوالے کردیاگیا اورحزب اللہ کوطاقت کے استعمال کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ امریکا اور اسرائیل نے اس خوبی اورمہارت کے ساتھ ایک تیرکے ساتھ کئی شکارکرنے کی ایسی ہولناک اورخوفناک سازش تیارکی کہ وہ حزب اللہ جس نے لبنان میں اسرائیل کی فضائی برتری کے باوجوداس کوزمینی کارروائی میںلوہے کے چنے چبوا کر عالم اسلام سے جوتحسین وصول کی تھی ،اس کوجہاں عالم اسلام میں بدنامی کے گہرے اورعمیق گڑھے کاشکارکردیاوہاں اس کی حربی قوت کوبھی کمزورکردیاتاکہ اس خطے میں آیندہ اسرائیل کے سامنے کوئی طاقتورحریف نہ رہے۔
شامی عوام فکری اورعملی حوالے سے بالکل مختلف ہیں۔ یہ لوگ اعتدال کے ساتھ دینداراورمعاملہ فہم ہیں جس کی وجہ سے روس اور امریکاان کی یکجہتی کوختم کرانے میں ناکام ہیں تاہم عالمی قوتیں شامی،ایرانی اورلبنانی ملیشیاؤں کی وجہ سے ایک کروڑسے زائدعوام معاشی لحاظ سے بالکل تباہ ہوگئے ہیں اور نقل مکانی پرمجبور کردیے گئے ہیں اورامریکا،اس کے مغربی اتحادی اورروس بھی اس سازش میں مکمل ہم خیال ہیں کہ شام سے سنی اکثریت کومزیدخوفزدہ کرکے شام کوچھوڑنے پرمجبور کیا جائے اوریہاں مستقل طورپرایسی مضبوط سنی مخالف حکومت قائم کی جائے جومسلمانوں کوفرقہ واریت کے جہنم میں جلاکرخاکسترکردے تاکہ مستقبل میں اپنے مفادات کی تکمیل میں اسرائیل کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ پرمکمل قبضہ کرکے ان ممالک کے تیل کے ذخائرپرقبضہ کرلیاجائے۔یہی وجہ ہے کہ ایک سال قبل ایران کے مذہبی رہنما نے دھمکی دیتے ہوئے خطے کے سنی ممالک کو متنبہ کیا تھاکہ آیندہ ایران سے لے کر یمن تک شیعہ مسلک کی طاقتورپٹی اس خطے کے مستقبل کے فیصلوں میں اہم کرداراداکرے گی۔ نجانے عالم اسلام اس گہری سازش کاعملی تدارک کرتے ہوئے اپنے مسائل کوباہمی اتفاق رائے سے کب حل کرے گاکہ دشمن کے لیے شیعہ سنی سب کوبلاتمیزختم کرنا مقصود ہے۔