حکومت غلطیاں دہرانے کے بجائے مسئلہ کشمیر اجاگر کرے،اے پی سی

81
کراچی پریس کلب میں تحریک آزادی جموں وکشمیر کی اے پی سی سے مفتی عبداللطیف خطاب کررہے ہیں‘ محمد حسین محنتی‘ عبدالکریم عابد‘ نہال ہاشمی ‘ قاضی احمد نورانی و دیگر موجود ہیں
کراچی پریس کلب میں تحریک آزادی جموں وکشمیر کی اے پی سی سے مفتی عبداللطیف خطاب کررہے ہیں‘ محمد حسین محنتی‘ عبدالکریم عابد‘ نہال ہاشمی ‘ قاضی احمد نورانی و دیگر موجود ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت ماضی کی غلطیاں دہرانے کے بجائے مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز سے اجاگر کرے۔ یوم کشمیر قریب آنے کے باوجود وزیر اعظم عمران خان کا کوئی کردار نظر نہیں آرہا۔ ہم مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کو جگانے میں ناکام ہوئے ہیں۔ آج کشمیر کا ہر فرد اہل پاکستان سے تعاون کی اپیل کر رہا ہے۔ 70 سال سے پاکستان کے لیے قربانیاں پیش کرنے والوں کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ فروری کا پورا ہفتہ اہل کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منائیں گے۔بڑا پروگرام 3 فروری کو ہوگا، حسن اسکوائر سے سفاری پارک تک ’’یکجہتی کشمیر کارواں‘‘ میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں شریک ہوں گی۔ ان خیالات کا اظہار تحریک آزادی جموں کشمیر کے تحت آل پارٹیز کشمیر کانفرنس سے جماعۃ الدعوۃ کراچی کے مسؤل مفتی عبداللطیف، جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی، مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما محفوظ یار خان ایڈووکیٹ، جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا عبدالکریم عابد، جمعیت علمائے پاکستان سندھ کے صدر قاضی احمد نورانی، جماعۃ الدعوۃ ضلع وسطی کے مسؤل حافظ عمران بھٹی، ضلع غربی کے مسؤل حافظ محمد امجد، محب وطن پارٹی کے چیئرمین اسلم خان فاروقی و دیگر نے کراچی پریس کلب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ جماعۃ الدعوۃ کراچی کے مسؤل مفتی عبداللطیف نے کہا کہ کشمیر کا ہر فرد اہل پاکستان سے تعاون کی اپیل کر رہا ہے۔ قرآن کی رو سے ہم پر ان کی مدد کرنا فرض ہے۔ اہل کشمیر آج اپنے شہدا کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ رہے ہیں اور ان کی قبروں پر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہے ہیں۔ کشمیری پاکستان کے لیے اپنا خون پیش کر رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہمارے حکمران ان کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ برہان وانی، عبدالمان جیسے کتنے نوجوان شہدا کی فہرست میں شامل ہوچکے ہیں۔ کیا عالمی برادری کو یہ سب قربانیاں نظر نہیں آتی؟ اقوام متحدہ ان مظالم پر خاموش کیوں ہے؟۔ جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی نے کہا کہ آج کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔ کشمیریوں نے کسی صورت بھارت کے قبضے کو برداشت نہیں کیا۔ کشمیری چاہتے ہیں کہ ان کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق ملے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اقوام متحدہ کشمیریوں کو تحریک کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوم کشمیر قریب آنے کے باوجود وزیر اعظم عمران خان کا کوئی کردار نظر نہیں آرہا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی نے کہا کہ موجودہ حکومت کشمیر کی اہمیت کو سمجھنے سے قاصر نظر آ رہی ہے،ہم مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کو جگانے میں ناکام ہوئے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم تحریک آزادی کشمیر کو بھرپور طریقے سے اجاگر کریں۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما محفوظ یار خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی کشمیر پر تقریریں ہمارے لیے اہمیت کی حامل ہیں۔ اقوام متحدہ امریکا کی لونڈی ہے، وہ مسلمانوں کو ان کے حقوق نہیں دلا سکتی۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ 5 فروری کو افواج پاکستان سرحدوں پر اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کریں، تاکہ انڈیا کو واضح پیغام دیا جاسکے۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا عبدالکریم عابد نے کہا کہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پر تحریک آزادی جموں و کشمیر کو مبارکباد دیتا ہوں، کسی بھی قوم کے حقوق جبراََ غصب کرنا انسانیت کے اصولوں کیخلاف ہے۔ جمعیت علمائے پاکستان سندھ کے صدر قاضی احمد نورانی نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، وہ پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے جس پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا معیار کشمیر کے حوالے سے کچھ اور ہے اور مشرقی تیمور و جنوبی سوڈان کے حوالے سے کچھ اور۔ بڑا المیہ یہ ہے کہ مسلم ریاستوں کے حکمران بھی مسلم امہ کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہے۔ بہت جلد کشمیر پاکستان کا حصہ کہلائے گا۔ محب وطن پارٹی کے چیئرمین اسلم خان فاروقی نے کہا کہ ہماری جدوجہد محض 5 فروری تک محدود نہیں ہونی چاہیے، کشمیر کمیٹی کا کوئی کردار نظر نہیں آرہا۔ جماعۃ الدعوۃ ضلع وسطی کے مسؤل حافظ عمران بھٹی نے کہا کہ آزادی اللہ کی بڑی نعمت ہے لیکن ہمیں آزادی کی قدر نہیں۔ اہل کشمیر بھی ہماری طرف دیکھ رہے ہیں، ہمیں اپنی شہ رگ کشمیر کو دشمن سے آزاد کرانا ہے۔